اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز ایک بیان میں بتایا ہے کہ شام کے جنوبی علاقے میں واقع مزرعہ بیت جن میں ایک فضائی کارروائی کے دوران حماس کے ایک رکن کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
فوج کے ترجمان دفتر کے مطابق، یہ حملہ اس مقام پر کیا گیا جہاں حماس کا مذکورہ رکن موجود تھا۔ تاہم، بیان میں نہ تو اس شخص کی شناخت ظاہر کی گئی ہے اور نہ ہی مزید تفصیلات فراہم کی گئیں۔
اس سے قبل گزشتہ منگل کو اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ شامی حکومت سے وابستہ جنگی سازوسامان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ کارروائی شام کی جانب سے دو راکٹ داغے جانے کے جواب میں کی گئی۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے اس حملے کا ذمہ دار براہ راست شامی صدر احمد الشرع کو ٹھہرایا۔
شام کی جانب سے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا کہ اسرائیلی علاقے کی طرف کسی حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ دمشق کا کہنا ہے کہ اس کا موقف واضح ہے کہ وہ "کسی بھی فریق کے لیے خطرہ نہ تھا، نہ ہے اور نہ ہوگا"۔
عرب اور فلسطینی ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق، "کتائب الشهید محمد الضیف" نامی ایک غیر معروف تنظیم نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم کا نام حماس کے عسکری ونگ کے اس کمانڈر سے منسوب ہے جو 2024 میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گیا تھا۔
ادھر، حالیہ دنوں میں اسرائیل اور شام کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے براہ راست مذاکرات بھی ہوئے ہیں، جو ایک دہائی سے جاری مشرق وسطیٰ کے تناؤ بھرے حالات میں ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
-
ایران کا اسرائیل کے حساس جوہری پروگرام کا ریکارڈ قبضے میں لینے کا دعویٰ
ہزاروں خفیہ فائلیں، ویڈیوز اور تصاویر تہران منتقل: ایرانی ذرائع کا انکشاف
بين الاقوامى -
اسرائیلی بمباری سے غزہ میں درجنوں ہلاک و زخمی، ہسپتالوں میں ایندھن تقریبا ختم
غزہ پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اتوار کی صبح سے اب تک کم از کم 21 فلسطینی ہلاک ...
مشرق وسطی -
جنوبی لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملہ، ایک شخص جاں بحق
عیتا الشعب کے اطراف میں بھاری فائرنگ، اسرائیلی لڑاکا طیارے اور ڈرون فضاؤں میں ...
مشرق وسطی