اسرائیلی پارلیمنٹ میں ارکان کی اکثریت نے اپوزیشن کے پارلیمنٹ کو قبل از وقت برخاست کرنے سے متعلق پیش کردہ بل کو مسترد کر دیا ہے۔ اپوزیشن کی طرف سے پیش کیا گیا بل جمعرات کے روز اکثریتی ووٹوں سے ناکام کیا گیا ہے۔
اپوزیشن کا پارلیمنٹ کو برخاست کیے جانے کے بل کی منظوری کی صورت میں نئے انتخابات کراکے نئی پارلیمنٹ وجود میں لانا لازم ہو جاتا۔ تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کی حکومت بچ گئی ہے۔
پارلیمنٹ کو توڑ کر قبل از وقت انتخاب کا راستہ ہموار کرنے کے حق میں اپوزیشن 120 ووٹوں میں 53 ووٹ لینے میں کامیاب رہی جبکہ بل کے خلاف 61 ووٹ ڈالے گئے۔
اپوزیشن کو امید تھی کہ وہ اسرائیل کی ان آرتھو ڈاکس قسم کی سیاسی جماعتوں کے ووٹوں کی مدد سے بل منظور کرانے میں کامیاب ہو جائے گی جو حکومت کا حصہ نہیں ہیں بلکہ حکومت سے ناراض ہیں۔ یہ جماعتیں بعض انتہائی مذہبی ایشوز پر نیتن یاہو سے خفا چلی آرہی ہیں۔
اسرائیل کی اپوزیشن جماعتیں بنیادی طور پر بائیں بازو کی اور سنٹرسٹ جماعتوں پر مشتمل ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق انتہا پسند مذہبی جماعتوں نے شروع میں اپوزیشن جماعتوں کو امید دلانے کے بعد بالآخر نیتن یاہو کی حکومت نہ گرانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ووٹ بل کے خلاف استعمال کیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ ووٹنگ میں ناکامی کے بعد اپوزیشن کو ایک بار پھر ایسی ہی کوشش کرنے کے لیے چھ ماہ تک انتطار کرنا ہوگا ۔ کیونکہ دستور کے مطابق ایسی ایک کوشش کے ناکام ہونے کے بعد دوبارہ کوشش میں چھ ماہ کا وقفہ ضروری ہے۔ البتہ چھ ماہ بعد اپوزیشن نئے بل کے ساتھ پھر چڑھائی کر سکے گی۔
ایک روز قبل اپوزیشن رہنماؤں نے کہا تھا کہ بل پیش کرنے کا فیصلہ تمام اپوزیشن جماعتوں کا متفقہ فیصلہ تھا۔ اس لیے تمام اپوزیشن ارکان اس متفقہ فیصلے کے مطابق ووٹ ڈالنے کے پابند ہیں۔
یاد رہے نیتن یاہو کی حامی جماعتوں کا اتحاد دسمبر 2022 میں وجود میں آیا تھا۔ یہ ملک کی انتہائی مذہبی جماعتوں کا سب سے اہم اتحاد ہے۔ اس میں دو آرتھو ڈاکس جماعتیں بھی شامل ہیں۔ ان دونوں نے اپوزیشن بل کی حمایت کی نیتن یاہو کو دھمکی دی تھی۔ لیکن بعد ازاں نیتن یاہو کی حمایت میں واپس آگئیں۔