خان یونس سے لوگوں کے انخلا کا حکم، غزہ میں مزید 23 فلسطینیوں کی اموات
15 افراد کو امداد لیتے ہوئے قتل کیا گیا، غزہ میں فاؤنڈیشن کے آغاز سے لے کر اب تک 274 افراد کی موت ہوچکی
غزہ میں صحت کے حکام نے بتایا کہ اسرائیلی فائرنگ اور فضائی حملوں میں پوری پٹی میں کم از کم 23 فلسطینی کی اموات واقع ہوئی جن میں سے زیادہ تر امریکی حمایت یافتہ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے زیر انتظام امداد کی تقسیم کے مقام کے قریب قتل ہوئے۔
وسطی غزہ کے العودہ اور الاقصیٰ ہسپتالوں کے طبی ماہرین نے بتایا کہ کم از کم 15 افراد اس وقت ہلاک ہو گئے جب غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کی امداد کی تقسیم کے مقام کے قریب نتساریم کے قریب پہنچنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ باقی غزہ کی پٹی میں الگ الگ حملوں میں مارے گئے۔ ہفتے کے روز ہونے والے واقعات پر نہ تو اسرائیلی فوج اور نہ ہی غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن نے کوئی تبصرہ کیا۔
غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن نے مئی کے آخر میں غزہ کی پٹی میں خوراک کے پارسل کی تقسیم شروع کی۔ اس طرح امداد کی تقسیم کے ایک نئے ماڈل کی نگرانی کی گئی۔ اس ماڈل کے بارے میں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دیانتداری اور غیر جانبداری کا فقدان ہے۔ غزہ کی وزارت صحت نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کی جانب سے غزہ میں اپنی کارروائیاں شروع کرنے کے بعد سے اب تک کم از کم 274 افراد ہلاک اور 2000 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے خان یونس اور جنوبی غزہ کے قریبی قصبوں اباسان اور بنی سہیلہ کے رہائشیوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر چھوڑ کر مغرب کی طرف نام نہاد انسانی زون کی طرف چلے جائیں۔ اسرائیلی فوج نے کہا وہ علاقے میں دہشت گرد تنظیموں کو تباہ کرنے کے لیے مضبوط طاقت کے ساتھ کارروائی کرے گی۔
غزہ میں جنگ 20 ماہ قبل 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کی قیادت میں اچانک حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق، اسرائیلی فوجی مہم کے نتیجے میں تقریباً 55,000 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر عام شہری ہیں۔ امریکہ، مصر اور قطر کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی بحالی کی کوششوں کے باوجود، اسرائیل اور حماس اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہیں۔