سیٹلائٹ تصاویر نے اسرائیل کے حملوں سے متاثر ہونے والے دیگر فوجی اہداف کے علاوہ ایران میں دو بڑے جوہری مقامات کو پہنچنے والے نقصان کا انکشاف کردیا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سیٹلائٹ کی تصاویر میں نطنز جوہری تنصیب کے ساتھ ساتھ تبریز کے جنوب میں ایک میزائل سائٹ اور دو دیگر فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کو دکھایا گیا ہے۔ میکسار کی جانب سے جاری کردہ سیٹلائٹ تصاویر بھی اس بات کی سب سے واضح تصویر فراہم کرتی ہیں کہ ایران کے اہم جوہری مقامات نطنز اور اصفہان میں نقصان ہوا ہے۔
نطنز میں ایندھن کی افزودگی کی جانچ کی سہولت اور ایک الیکٹریکل سب سٹیشن کو پہنچنے والے نقصان کو دیکھا جا سکتا ہے۔ تصاویر میں کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا یا ان عمارتوں کو مکمل طور پر تباہ شدہ دکھایا گیا ہے۔ بجلی کی سہولت فراہم کرنے والے ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
اصفہان میں سائٹ کے اندر کم از کم دو ڈھانچوں میں واضح نقصان دیکھا گیا اور ساتھ ہی اس سہولت کے اطراف کے قریب جلنے کا واضح نشان بھی موجود ہے۔ تبریز میں امبرا سپیس کی طرف سے جمعہ کے روز لی گئی تصاویر میں شمال مغربی ایرانی شہر کے قریب ایک میزائل کمپلیکس کے کئی حصوں کو نقصان پہنچنا دیکھا جا سکتا۔ امبرا کی طرف سے فراہم کردہ ایک مثال کے مطابق تبریز میں تباہ شدہ مقامات میں ہتھیاروں کے ذخیرہ کرنے کے علاقے میزائل شیلٹرز اور ذخائر بھی شامل ہیں۔
پلینیٹ لیبز PBC کی طرف سے لی گئی تصاویر میں مغربی ایران کے کرمانشاہ میں ایک اڈے کو بھی نقصان پہنچا۔ یہ اڈہ ایک پہاڑ کے ساتھ واقع ہے۔ حملے کے بعد بڑے پیمانے پر جلنے کے آثار دیکھے گئے۔ میکسار نے دو دیگر بڑی ایرانی جوہری سائٹس کی تصاویر بھی فراہم کیں جن میں کوئی نظر آنے والا نقصان نہیں دکھایا گیا۔ ایک اراک میں ہیوی واٹر ری ایکٹر اور دوسری فورڈو میں افزودگی کی سہولت ہے۔
ہفتے کے روز انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) نے تصدیق کی ہے کہ اصفہان میں چار "حساس" عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے جن میں یورینیم کی تبدیلی کی سہولت اور ایک ایندھن پلیٹ بنانے کا پلانٹ شامل ہے۔ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے فورڈو سہولت اور خندب ہیوی واٹر ری ایکٹر کو پہنچنے والے نقصان کی تردید کی ہے۔ فورڈو سائٹ کو کئی اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے، تاہم گزشتہ روز ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کے ترجمان بہروز کمال وندی نے کہا کہ نقصان محدود تھا۔