ایرانی پاسداران انقلاب نے منگل کو دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تل ابیب میں اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی ’موساد‘ کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ اطلاع ایرانی سرکاری ٹی وی کے ذریعے سامنے آئی۔
اس سے قبل اسرائیلی پولیس نے بتایا تھا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کے نتیجے میں تل ابیب میں متعدد مقامات پر دھماکے سنے گئے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ایران سے میزائل داغے جانے کے بعد اسرائیل کے کئی علاقوں میں سائرن بجائے گئے۔
مسؤول إسرائيلي كبير: دمرنا نحو 40% من منصات إطلاق الصواريخ الإيرانية #قناة_العربية #إيران #إسرائيل pic.twitter.com/p5qfeftgUa
— العربية (@AlArabiya) June 17, 2025
پاسداران انقلاب نے اسرائیل کی جانب ایک اور طاقتور میزائل حملے کی لہر روانہ کرنے کی تصدیق کی، جبکہ ایرانی خبر رساں ایجنسی "ارنا" نے ایک اعلیٰ ایرانی کمانڈر کے حوالے سے بتایا کہ آنے والے گھنٹوں میں ایران کی طرف سے حملے مزید شدت اختیار کریں گے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تل ابیب اور یروشلم میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ ایک فوجی اہلکار کے مطابق ایرانی ڈرونز نے اسرائیل میں "اسٹریٹیجک اہداف" کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی بری فوج کے کمانڈر جنرل کیومرث حیدری نے کہا کہ مختلف اقسام کے تباہ کن ڈرونز نے تل ابیب اور حیفا میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
صور متداولة من أحد مواقع سقوط الصواريخ الإيرانية في تل أبيب#قناة_العربية pic.twitter.com/rAHNCHbdUr
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) June 17, 2025
اسرائیلی پولیس کے بیان کے مطابق تل ابیب کے علاقے میں گرنے والے میزائلوں اور ان کے ٹکڑوں سے مالی نقصان ہوا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔ پولیس کے مطابق، بم ڈسپوزل یونٹ اور سکیورٹی فورسز علاقے کو محفوظ بنانے میں مصروف ہیں۔
فائر بریگیڈ نے بھی بتایا کہ انہیں دان علاقے کے قریب ایک شہر میں میزائل گرنے اور آگ لگنے کی اطلاع ملی ہے، جب کہ گوش دان میں بھی ایسی ہی متعدد کالز موصول ہوئیں۔
صور متداولة من أحد مواقع سقوط الصواريخ الإيرانية في تل أبيب#قناة_العربية pic.twitter.com/BeV5K6c2c0
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) June 17, 2025
العربیہ اور الحدث کے نامہ نگارنے اطلاع دی کہ ایران کی جانب سے داغے گئے 18 میزائلوں میں سے اسرائیلی فوج نے 14 کو فضا میں تباہ کر دیا، جبکہ پانچ میزائل شمالی اور وسطی اسرائیل میں اہداف پر گرے، جن سے نقصان ہوا۔ اسرائیلی ریسکیو اداروں کے مطابق ایرانی میزائل حملوں میں زخمیوں کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے تصدیق کی تھی کہ ایران کی طرف سے داغے گئے درجنوں میزائلوں کی نشاندہی کی گئی اور دفاعی نظام انہیں روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نامہ نگارکے مطابق 30 سے زائد میزائل ایک ہی وقت میں اسرائیل کی جانب داغے گئے، جن میں سے کئی وسطی اسرائیل میں گرے، جن میں ہرٹزیلیا شہر کا ایک رہائشی عمارت بھی نشانہ بنی۔ شمالی اسرائیل میں بھی میزائلوں کے ٹکڑے گرے۔
مراسل العربية: إصابة مباشرة لمبنى في هرتسليا وسط إسرائيل #قناة_العربية pic.twitter.com/m0SBrNMzON
— العربية (@AlArabiya) June 17, 2025
اسرائیلی فوج نے جوابی کارروائی میں ایران کے مغربی علاقوں میں متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران سے داغے گئے میزائلوں کے جواب میں اسرائیلی فضائیہ نے 30 سے زائد ایرانی ڈرونز کو تباہ کیا۔
فوجی بیان کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے رات بھر میں ایرانی میزائل ڈپوؤں ، زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کی لانچنگ سائٹس اور ڈرون مراکز کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنا بتایا گیا۔
صور لسقوط شظايا صاروخ في بلدة شمال إسرائيل #قناة_العربية pic.twitter.com/UXEaKxh9oi
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) June 17, 2025
پیر کو تہران میں ایرانی سرکاری ٹی وی کے ہیڈکوارٹر پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے، سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین ملازمین شامل تھے، جبکہ زخمیوں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔
مراسل العربية: اعتراض صواريخ في سماء إسرائيل #قناة_العربية pic.twitter.com/EKpJofu3VE
— العربية (@AlArabiya) June 17, 2025
جمعہ سے جاری اس تصادم میں اب تک ایرانی حکام کے مطابق 220 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے، جبکہ اسرائیلی حکام نے 24 شہریوں کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں کا مقصد ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے لاحق خطرات کا خاتمہ ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ جوہری اسلحہ حاصل نہیں کرنا چاہتا، بلکہ پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کا حق رکھتا ہے، کیونکہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی ممانعت سے متعلق معاہدے کا رکن ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری فضائی جھڑپوں نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے جو پہلے ہی غزہ پر اکتوبر 2023ء میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے بعد سے نازک صورتحال سے دوچار ہے۔
امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے حالیہ حملوں میں شریک نہیں، اور تہران کو متنبہ کیا ہے کہ وہ امریکی مفادات یا شہریوں پر حملے سے باز رہے۔