ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے آج جمعہ کو اسرائیل کے فریب میں مبتلا افراد کے لیے اپنے آپ کو اور اپنے ہتھیاروں کو حوالے کرنے کے لیے ایک حتمی موقع کا اعلان کیا اور یکم جولائی کی تاریخ مقرر کردی ہے۔
کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جو بھی صیہونی حکومت کے دھوکے میں آیا ہے، خواہ وہ دانستہ یا نادانستہ ہو اور کسی بھی مقصد کے لیے ہو، سادہ اور بنیادی تعاون کے خیال کے ساتھ ہو، دشمن کے ساتھ خیانت یا تعاون کے ارادے کے بغیر ہو اسے اتوار یکم جولائی کے آخر تک وزارت کے ہیڈکوارٹر ریگولیشن کو رپورٹ کرنے کی مہلت دی جاتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس معافی سے فائدہ اٹھانے کے لیے انٹیلی جنس آرگنائزیشن، پولیس سٹیشن یا ہیڈکوارٹر، یا بسیج بیس میں اپنے چھوٹے طیارے، سازوسامان اور ہتھیار حوالے کر کے واپس آ جائیں۔
تہران اور تل ابیب کے درمیان تنازع شروع ہونے سے پہلے ہی ایران جاسوسی کے الزام میں افراد کو گرفتار کرتا رہا ہے اور اس نے اسرائیل پر اپنے جوہری پروگرام سے متعلق ٹارگٹڈ قتل یا تخریب کاری کی کارروائیوں کے پیچھے ہونے کا الزام لگایا ہے۔
ایجنسی فرانس پریس کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ایران میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں متعدد افراد کو پھانسی بھی دی گئی ہے۔ 13 جون کو جنگ کے آغاز کے بعد سے ایرانی حکام نے اسرائیلی فریق کے ساتھ درجنوں ساتھیوں کو گرفتار کیا ہے اور ملک میں حملوں کے لیے ڈرون بنانے والی فیکٹریوں کو ختم کر دیا ہے۔
خیال رہے اسرائیلی حملوں نے اسرائیلی انٹیلی جنس کی ایران میں دراندازی اور ایرانی سرزمین کے اندر سے حملے کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کردیا ہے۔
باخبر ذرائع نے پہلے انکشاف کیا تھا کہ موساد کے ایجنٹوں نے مہینوں تک ایران میں دراندازی کی اور کئی ٹیموں کو تربیت دی، اسی طرح مقامی تاجروں اور تجارتی اداروں کے ذریعے ان کی معلومات کے بغیر ڈرون ملک میں سمگل کیے گئے۔ یہ منظر نامہ اسی طرح کا ہے جو گذشتہ موسم گرما میں لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ ہوا تھا جب نام نہاد "پیجر" آپریشن کے دوران حزب اللہ کے سینکڑوں ارکان جاں بحق ہوگئے تھے۔