ایران : سرمایہ کار مہنگائی کی شدید لہر کے لیے تیار ، امریکی حملوں کے بعد پناہ گاہوں کی طرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد عالمی منڈی نے گھٹنے ٹیک دیے۔ اتوار کے بعد جب منڈیاں کھلیں گی تو انہیں ایک بڑے دھچکے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکہ کے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد ہی قیمتیں اوپر آنا شروع ہوگئیں اور سرمایہ کاروں نے محفوظ جگہوں کی تلاش کے لیے دوڑیں لگا دیں۔

سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خطے میں بے چینی و کشیدگی کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا اور کیا یہ عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہوگا۔

ایران پر امریکی حملے کا اعلان صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ 'ٹرتھ سوشل' پر کیا اور یوں مشرق وسطیٰ میں جاری بحران میں اپنی شراکت کو اور گہرا کر لیا۔

اسی امریکی حملے کے بارے میں اور مارکیٹوں پر اثرات کے بارے میں سرمایہ کاروں کے درمیان بحث جاری تھی اور وہ مارکیٹ کے مستقبل کے حوالے سے مختلف منظر ناموں پر غور کر رہے تھے۔

اب امریکہ کے حملے کے فوری بعد وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس کے نتیجے میں ایکویٹیز کی فروخت ہوگی، ڈالر اور دوسرے محفوظ اثاثوں کی تجارت بڑھے گی۔ تاہم وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ابھی کشیدگی بھی رہے گی اور بے یقینی بھی باقی رہے گی۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ 'ٹرتھ سوشل' پر ایران پر امریکی حملے کو کامیاب قرار دیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جلد ہی امریکی قوم سے خطاب کریں گے۔

'پوٹومیک ریور کیپیٹل' میں چیف سرمایہ کاری افسر مارک سپنڈل نے اس صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں فوری طور پر مارکیٹیں خدشات کی زد میں ہوں گی اور تیل کی قیمت میں اضافہ ہو جائے گا۔ ہمارے پاس ہونے والے نقصان کا تخمینہ نہیں ہے اور یہ تخمینہ لگانے میں ہمیں تھوڑا وقت لگے گا۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا 'جو کچھ اب تک ہوا ہے اس سلسلے میں آئندہ جو کچھ ہو سکتا ہے ہم اس کے ساتھ بھی جڑے ہوئے ہیں۔'

انہوں نے مزید کہا کہ منڈیوں پر بے یقینی کا ایک کمبل تنا ہوا ہے اور اب امریکی دنیا میں ہر جگہ 'ایکسپوز' ہو گئے ہیں۔ یہ چیز غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھائے گی۔ خصوصا تیل کی منڈیوں میں اس کے اثرات گہرے ہوں گے۔

سپنڈل نے کہا 'منڈیوں سے آنے والی خبروں کو ہضم کرنے کے لیے اور آئندہ کی حکمت عملی بنانے کے لیے وقت چاہیے ہوگا اور منڈیاں کھلنے سے پہلے میں مارکیٹ کے مختلف شراکت داروں کے ساتھ بات کر رہا ہوں۔'

تیل کی قیمتیں اور افراط زر

منڈیوں کی تشویش کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جاری صورتحال کے ممکنہ منفی اثرات کو دیکھ رہی ہیں اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ افراط زر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ افراط زر کا یہ اضافہ صارفین کے اعتماد کو مجروح کر سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں اس امر کا امکان کم ہے کہ شرح سود میں کٹوتی ہو سکے گی۔ اس وجہ سے پیچیدگی بڑھی ہے۔ یہ بات 'کریڈٹ کیپیٹل' کے سرمایہ کاری چیف جیک ابلن نے کہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یقینی طور پر توانائی سے متعلق مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور اسی طرح افراط زر بھی بڑھے گا۔

عالمی بنچ مارک 'برنٹ کروڈ' کی قیمتوں میں 10 جون سے 18 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ جو جمعرات کے روز پچھلے 5 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ کر 79.04 ڈالر ہوگیا ہے۔ اسی طرح ایس اینڈ پی 500 میں بھی تبدیلی ہوئی ہے۔ یہ تبدیلی ایک ابتدائی گراوٹ کی شکل میں آئی ہے جو ایران پر 13 جون کو ہونے والے اسرائیلی حملے کے سبب تھی۔

جبکہ امریکی خام تیل کی قیمتیں پچھلے ایک ہفتے میں دس فیصد بڑھ گئی ہیں۔ البتہ ایس اینڈ پی 500 میں ابھی معمولی تبدیلی ہوئی ہے اور جب سے اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی ہے بہت کم گراوٹ آئی ہے۔

مارکیٹ کو قریب سے مانیٹر کرنے والے ادارے بی ریلی ویلتھ کے چیف مارکیٹ سٹریٹجسٹ نے کہا ہے اگر اسرائیلی حملے ایرانی تیل کی سپلائی کو ختم کرنے کا باعث بنتے ہیں تو فطری طور پر مارکیٹ بیٹھ جائے گی۔ ہوگن کے مطابق اگر عالمی منڈی میں تیل کی مصنوعات کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو یہ آج کی WTI قیمت میں ظاہر نہیں ہوگی۔ تاہم اس سے چیزیں منفی ہو جائیں گی۔

ہوگن نے کہا وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے دو ہفتوں میں اس ایران کے خلاف جنگ میں شمولیت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کریں گے۔

اس سلسلے میں آکسفورڈ اکنامکس کے تجزیہ کاروں نے تین ممکنہ منظرنامے بنائے ہیں اور تینوں کے مطابق آپشنز اور اقدامات پر سوچا جا رہا ہے۔

ایک یہ کہ تنازعہ میں کمی ہوجائے۔ دوسرا یہ کہ ایرانی تیل کی پیداوار کی مکمل بندش ۔ تیسرا منظر نامہ یہ کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور ہر ایک عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر تیزی سے ہونے والے اثرات۔

کمپنی کے ایک نوٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سب سے زیادہ سنگین صورت میں خدشہ ہوگا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں تقریباً 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائیں گی۔ یہ منظر نامہ امریکی افراط زر کی شرح کے حوالے سے بھی اہم ہوگا۔ آکسفورڈ کا یہ تجزیہ ایران پر امریکی حملے سے پہلے آیا تھا۔

ہفتے کے روز امریکی حملے کے اعلان کے بعد ہیرس فنانشل گروپ کے منیجنگ پارٹنر جیمی کاکس نے اپنے تبصرے میں اتفاق کیا کہ تیل کی قیمتیں ممکنہ طور پر ابتدائی خبروں پر بڑھ جائیں گی۔ لیکن اس کے ساتھ توقع ہے کہ چند دنوں میں قیمتیں ممکنہ طور پر سطح پر آجائیں گی۔ کیونکہ یہ امریکی حملہ جلد ہی ایران کو اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کی طرف لے جا سکتا ہے۔

کاکس نے مزید کہا طاقت کے اس مظاہرے اور اس کی جوہری صلاحیتوں کے مکمل خاتمے کے ساتھ وہ اپنا تمام فائدہ کھو چکے ہیں ۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر امن معاہدے سے فرار کا سوچیں۔

ماہرین اقتصادیات نے تیل کی قیمتوں میں ڈرامائی اضافے وے خبردار کیا ہے۔ تیل منڈی ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کی وجہ سے پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ جس سے عالمی معیشت کو زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم پچھلے تجربے اور تاریخ کی روشنی میں توقع کی جاسکتی ہے کہ ایکویٹیز میں کوئی بھی پل بیک عارضی ہو ۔

جیسا کہ 2003 کے عراق پر امریکی حملے اور سعودی تیل کی تنصیبات پر 2019 کے حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ کے تناؤ سمیت ماضی میں کئی بار ہوا ہے۔ ابتدائی طور پر ذخائر میں کمی آئی لیکن جلد ہی تجارتی تیزی سے بحال ہو گئی۔

ڈالر کے لیے پریشانی

امریکی حملے کے بعد فوری طور پر تنازعے میں بڑھنے والی تشویش اور کشیدگی کے باعث امریکی ڈالر کے لیے ملے جلے اثرات ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کے اس حملے کے نتیجے میں ڈالر کو ابتدائی طور پر کچھ فائدہ ہو سکتا ہے لیکن اگر ہم ڈالر کی پرواز دیکھتے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ پیداوار کم ہو رہی ہے اور ڈالر مضبوط ہو رہا یے۔

'آئی بی کے آر' کے چیف مارکیٹنگ سٹریٹیجک کا کہنا ہے کہ یہ خیال کرنا آسان نہیں کہ سٹاکس پر منفی ردعمل نہیں آرہا۔ تاہم یہ سوال اہم ہے کہ یہ ردعمل کس حد تک آگے جائے گا۔ اس کا انحصار ایران کے ردعمل اور تیل کی قیمتوں میں اضافے پر ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں