ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی مشق ایک سال قبل امریکہ کے ساتھ کی تھی :اسرائیلی عہدے دار

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ آج اتوار کے روز پینٹاگون سے اس کارروائی کی تفصیلات بیان کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک با خبر اسرائیلی ذریعے نے امریکی نشریاتی ادارے "اے بی سی نیوز" کو بتایا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے تقریباً ایک سال قبل ایک فوجی مشق کے دوران ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کی تربیت مکمل کر لی تھی۔ یہ مشق غیر معمولی نوعیت کی تھی کیونکہ اس میں پہلی بار ایرانی جوہری صلاحیتوں کے خلاف پہلے سے تیار کردہ حملہ آور کارروائیاں شامل تھیں۔

ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں تیار کیا گیا تھا، تاہم ان کا کہنا تھا "ہم نے ایک سال پہلے یہ توقع نہیں کی تھی کہ یہ سب کچھ اب ہو جائے گا۔"

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ نے ہفتے کی شب ایران میں تین جوہری مقامات کو نشانہ بنایا۔ ایک اعلیٰ امریکی عہدے دار نے تصدیق کی ہے کہ B-2 بم بار طیاروں نے ایران کے اندر اس مشن کے دوران کئی بڑے بم گرائے، جنھیں "بنکر شکن بم" کہا جاتا ہے۔

اسی عہدے دار نے یہ بھی بتایا کہ امریکی بحریہ کی ایک آبدوز سے ایران کے اندر اہداف پر کئی "ٹوم ہاک کروز میزائل" بھی داغے گئے۔ ان حملوں کے بعد صدر ٹرمپ نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے ان کارروائیوں کو "شان دار فوجی کامیابی" قرار دیا۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ آج اتوار کے روز پینٹاگون سے ایک بیان جاری کریں گے جس میں اس کارروائی کی تفصیلات بیان کی جائیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں