امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا کہ ان کے ملک نے ایران میں تین جوہری تنصیبات کو " بھرپور اور مکمل طور پر تباہ" کر دیا ہے۔ یہ تین تنصیبات اصفہان، نطنز اور فردو ہیں۔ یہ حملے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے بیان کردہ ہدف کے ساتھ ایران کے خلاف اسرائیلی فوجی مہم کے آغاز کے دس دن بعد ہوئے ہیں۔ تہران نے جواب میں اسرائیلی شہروں کی طرف میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق ایران حالیہ برسوں میں اپنی جوہری سرگرمیوں کی رفتار اور دائرہ کار میں نمایاں طور پر تیزی لایا ہے۔ 2018 میں امریکہ ایران کے ساتھ معاہدے سے دستبردار ہوگیا تھا۔ اس معاہدے کا مقصد ایران کے پروگرام کو محدود کرنا تھا اور بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کے بدلے اس کی پرامن نوعیت کو یقینی بنانا تھا۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اگست کے وسط تک تہران کے پاس افزودہ یورینیم کا ذخیرہ 5,751.8 کلوگرام تھا جو 2015 کے معاہدے کے تحت دی گئی اجازت سے 28 گنا زیادہ تھا۔ اسے باضابطہ طور پر جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) کہا جاتا ہے۔
5751.8 کلوگرام ذخیرے میں سے 164.7 کلوگرام یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کرلیا گیا ہے یہ فوجی استعمال کے لیے درکار 90 فیصد کے قریب ہے۔ آئی اے ای اے کے مطابق یہ مقدار تقریباً چار ایٹم بم بنانے کے لیے کافی تھی۔ مغربی ممالک اور اسرائیل کو شبہ ہے کہ ایران جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس الزام کی ایران نے تردید کی ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا پروگرام پرامن ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک کون سی اہم سائٹس IAEA کے باقاعدہ معائنہ کے تابع ہیں؟
یورینیم افزودگی کی سہولیات
نطنز: اس کا وجود 2002 میں ظاہر ہوا تھا اور یہ ایران کے جوہری پروگرام میں سب سے نمایاں تنصیبات میں سے ایک ہے۔ اسرائیل نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ اس نے نطنز میں "اہم سہولت" کو تباہ کر دیا ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) نے 17 جون کو اعلان کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے دوران تنصیب کے نچلے حصے کو براہ راست نقصان پہنچا ہے۔ ایجنسی نے کہا جمعہ کے حملوں کے بعد جمع کی گئی ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ کی تصاویر کے جاری تجزیے کی بنیاد پر IAEA نے اضافی عناصر کی نشاندہی کی ہے جو نطنز میں زیر زمین افزودگی ہالوں کو براہ راست نقصان کی نشاندہی کرتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو علی الصبح کہا کہ امریکی طیاروں نے نطنز، اصفہان اور فردو تنصیبات کو "مکمل طور پر تباہ" کر دیا ہے۔
اس سہولت کو سرکاری طور پر شاہد احمدی روشن سائٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اور اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک زمین کے اوپر اور دوسرا زمین کے نیچے۔ اس میں تقریباً 70 سنٹری فیوجز کے سلسلے ہیں یا اس میں 10,000 سے زیادہ سینٹری فیوجز ہیں جو یورینیم کی افزودگی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اس سائٹ کو اپریل میں تخریب کاری کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کی ذمہ داری ایران نے اسرائیلی انٹیلی جنس پر عائد کی تھی۔
فردو: ستمبر 2009 میں ایران نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تہران اور قم (وسطی ایران) کے درمیان پہاڑوں میں مضبوط فردو سہولت کا انکشاف کیا تھا۔ اس سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بڑی طاقتوں کے ساتھ اس کا ایک بحران پیدا ہوگیا تھا۔ اسے فضائی حملے سے بچانے کے لیے ایک فوجی اڈے کے قریب پہاڑی علاقے میں اسے ایک "ریسکیو سائٹ" کے طور پر بیان کیا گیا۔ تہران نے اعلان کیا کہ یہ ایک اعلیٰ صلاحیت کی افزودگی کی سہولت ہے جو تقریباً 3,000 سینٹری فیوجز کو ایڈجسٹ کرنے کے قابل ہے۔ 2023 کے اوائل میں اس جگہ سے 83.7 فیصد افزودہ یورینیم کے ذرات دریافت ہوئے تھے جسے ایران نے افزودگی کے دوران "غیر ارادی اتار چڑھاؤ" قرار دیا۔
اصفہان: اصفہان میں یورینیم کی تبدیلی کا پلانٹ ہے جس کا صنعتی طور پر 2004 میں تجربہ کیا گیا تھا۔ یہ پلانٹ "یلو کیک" (ایرانی صحرائی کانوں سے نکالے گئے مرتکز یورینیم ایسک پاؤڈر) کو یورینیم ٹیٹرا فلورائیڈ اور پھر یورینیم ہیکسافلوورائیڈ (UF4 اور UF6) میں تبدیل کرتا ہے۔ اس کے بعد ان گیسوں کو افزودہ یورینیم بنانے کے لیے سینٹری فیوجز میں کھلایا جانا چاہیے۔ اصفہان میں ایک تجربہ گاہ بھی ہے جس کا افتتاح اپریل 2009 میں کیا گیا تھا جو ممکنہ ری ایکٹروں کے لیے کم افزودہ ایندھن تیار کرتی ہے۔
امریکی حملوں سے پہلے اسرائیل نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے جنگ کے آغاز کے بعد دوسری بار اس مقام پر بمباری کی ہے۔ اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے یورینیم کی افزودگی کے لیے سینٹری فیوج کی پیداواری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ 2024 کے اوائل میں ایران نے اس جگہ پر ایک نئے ریسرچ ری ایکٹر کی تعمیر شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اراک: اراک میں بھاری پانی کے ری ایکٹر کی تعمیر کی گئی ہے۔ اس کا مقصد سرکاری طور پر طبی تحقیق کے لیے پلوٹونیم تیار کرنا تھا۔ یہ ری ایکٹر 2000 کی دہائی میں شروع ہوا۔ تاہم یہ منصوبہ ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان 2015 کے معاہدے کے تحت منجمد کر دیا گیا تھا۔ اسے دوبارہ ڈیزائن کرنے کی شرط رکھی گئی تھی۔ نتیجتاً ری ایکٹر کور کو ہٹا دیا گیا اور اس میں کنکریٹ ڈالا گیا تاکہ اسے ناقابل استعمال بنایا جا سکے۔ ایران کی جانب سے آئی اے ای اے کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ سائٹ، جسے اب خندب کے نام سے جانا جاتا ہے، کے 2026 میں آپریشنل ہونے کی توقع تھی۔ کمپلیکس میں بھاری پانی کی پیداوار کا پلانٹ بھی موجود ہے۔ اسرائیلی فوج نے اس ہفتے کے شروع میں اعلان کیا تھا کہ اس نے اراک میں ایک غیر استعمال شدہ "جوہری ری ایکٹر" کو نشانہ بنایا ہے۔
تہران: تہران نیوکلیئر ریسرچ سنٹر میں طبی آئسوٹوپس تیار کرنے کے لیے ایک ری ایکٹر موجود ہے جسے امریکیوں نے 1967 میں اسلامی انقلاب سے پہلے حوالے کیا تھا۔
نیوکلیئر پاور پلانٹ
بوشہر: بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کو روس نے بنایا تھا۔ اس پلانٹ نے ستمبر 2011 میں کم صلاحیت پر کام کرنا شروع کیا اور اگلے سال بجلی کے گرڈ سے منسلک ہوا۔ جرمنی نے اسلامی انقلاب سے پہلے پلانٹ کی تعمیر شروع کی تھی اور ماسکو نے 1994 میں ایک ہزار میگاواٹ کا پلانٹ مکمل کیا تھا۔ ایران روس کی مدد سے دو دیگر جوہری پاور پلانٹس بنا رہا ہے۔ ایک دارخوین، جس کی تعمیر 2022 کے آخر میں 300 میگا واٹ کی صلاحیت کے ساتھ شروع ہوئی اور دوسرا سرک کمپلیکس ، جس کی تعمیر 2024 کے اوائل میں شروع ہوئی۔ اس میں چار پلانٹ شامل ہیں جن کی پیداواری صلاحیت 5,000 میگاواٹ ہے۔