اقوامِ متحدہ نے منگل کے روز غزہ میں اسرائیل کی جانب سے "بھوک کو ہتھیار بنانے" کی مذمت کی جو ایک جنگی جرم ہے اور اسرائیل کی فوج پر زور دیا کہ وہ "کھانے کے حصول کی کوشش کرنے والے لوگوں پر گولی چلانا بند کرے۔"
بریفنگ سے پہلے فراہم کردہ تحریری نوٹس میں اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے کہا، "اسرائیل کا انسانی امداد کا عسکری طریقہ کار امداد کی تقسیم کے بین الاقوامی معیارات سے متصادم ہے۔ غزہ میں مایوس، فاقہ زدہ لوگوں کو ایک غیر انسانی انتخاب کا سامنا ہے کہ یا تو بھوکے مر جائیں یا خوراک حاصل کرنے کی کوشش میں اپنی زندگی خطرے میں ڈالیں۔"
اقوامِ متحدہ نے مئی میں محصور علاقے کی "100 فیصد آبادی" کے لیے "قحط کے خطرے" کا اظہار کیا تھا۔
اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے ترجمان ثمین الخیطان نے بریفنگ نوٹس میں جی ایچ ایف کے "تقسیمی مقامات کے ارد گرد افراتفری کے مناظر" سے خبردار کیا۔
انہوں نے کہا، جب سے تنظیم نے کام شروع کیا ہے تو "اسرائیلی فوج نے تقسیمی مراکز تک پہنچنے کی کوشش کرنے والے فلسطینیوں پر گولہ باری کی اور گولی چلائی ہے جس کے نتیجے میں بہت سی ہلاکتیں ہوئیں"۔
انہوں نے ان رپورٹس کی طرف اشارہ کیا کہ "ان کے نتیجے میں 410 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ اور دیگر انسانی تنظیموں کے چند امدادی قافلوں تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہوئے کم از کم 93 دیگر افراد بھی مبینہ طور پر اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں"۔
انہوں نے کہا، "ان واقعات میں کم از کم 3000 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک قتل کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں اور ذمہ داروں سے حساب لیا جائے۔"
الخیطان نے خبردار کیا کہ یہ نظام "شہریوں کی جانیں خطرے میں ڈالتا ہے اور غزہ میں تباہ کن انسانی صورتِ حال کا ذمہ دار ہے۔"
انہوں نے خبردار کیا کہ "شہریوں کے لیے بھوک کو ہتھیار بنانا اور اس کے علاوہ زندگی برقرار رکھنے والی خدمات تک ان کی رسائی محدود کرنا یا روکنا ایک جنگی جرم ہے اور بعض حالات میں بین الاقوامی قانون کے تحت دوسرے جرائم کے عناصر کی تشکیل کی وجہ بن سکتا ہے۔"
اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
الخیطان نے کہا، "اسرائیلی فوج کو خوراک کے حصول کی کوشش کرنے والے لوگوں پر گولی چلانا بند کرنا چاہیے۔" انہوں نے اسرائیل سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ "خوراک اور غزہ کے فلسطینیوں کی زندگی برقرار رکھنے کے لیے دیگر ضروری انسانی امداد کے داخلے کی اجازت دی جائے۔"
انہوں نے کہا، "اسرائیل کو اقوامِ متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں کے کام پر سے اپنی غیر قانونی پابندیوں کو فوراً ہٹا دینا چاہیے۔"
اور انہوں نے دوسرے ممالک سے مطالبہ کیا کہ "اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں کہ غزہ پر قابض طاقت اسرائیل اپنی ذمہ داری کی تعمیل کرے تاکہ آبادی کو مناسب خوراک اور زندگی بچانے والی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔"
-
سعودی عرب کی جانب سے غزہ میں چار واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹس قائم کرنے کا معاہدہ
خان یونس اور وسطی غزہ میں روزانہ 12 مکعب میٹر تک پانی صاف کرنے کی گنجائش، تین لاکھ ...
مشرق وسطی -
سربراہ انروا نے غزہ کے امریکی حمایت یافتہ امدادی نظام کو ’ناگوار‘ قرار دے دیا
فلپ لازارینی نے انروا کی بحالی کا مطالبہ کیا
بين الاقوامى -
جنگ کے 12 دن: اسرائیل اور ایران کی طرف سے ادا کی گئی بھاری قیمت
اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی منگل کو دونوں ممالک کے درمیان 12 دن کی غیر ...
مشرق وسطی