قطر میں ایرانی حملوں پرولی عہد سعودی عرب کا اظہار مذمت،امیر قطر کے ساتھ فون پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب نے ایران کی طرف سے قطر میں اہداف پر کیے گئے حملوں کی مذمت کی ہے۔ یہ بات سعودی وزارت خارجہ نے پیر کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہی۔

بیان کے مطابق مملکت سخت ترین الفاظ میں ایرانی حملے کی مذمت کرتی ہے۔ یہ قطر کے خلاف سنگین قسم کی جارحیت اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اسی طرح ایران نے اچھے پڑوسیوں کے اقدار کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔

سعودی عرب کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایرانی حملہ ناقابل قبول ہے۔ ان کے لیے کسی بھی طرح کا جواز پیش نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کسی بھی طرح کے حالات میں یہ جائز ہو سکتے ہیں۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی امیر قطر شیخ تمیم بن حماد الثانی سے فون پر بات کی اور ایرانی حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایرانی حملوں کو کھلی جارحیت ، غیر منصفانہ اور قابل مذمت اقدام قرار دیا۔

سعودی خبررساں ادارے 'ایس پی اے' کے مطابق ولی عہد نے اس امر کی تصدیق کی کہ مملکت نے قطر کی حمایت کے لیے اپنی تمام صلاحیتوں کو فراہم کر دیا تھا اور قطر کی سلامتی کی حفاظت و خودمختاری کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

انہوں نے قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور کہا کہ ایرانی میزائل حملہ قابل مذمت ہے۔

یاد رہے ایران نے اتوار کے روز قطر میں امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈے اور سینٹ کام کے عملی طور پر ہیڈکوارٹر پر میزائل داغے تھے۔ تاہم امریکہ کا اس میں کوئی نقصان نہیں ہو سکا۔

قطر نے ایران کے ان حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ ہم نے ایرانی میزائل حملوں کو کامیابی سے روکا اور کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔ مزید یہ کہ قطر کی فضائی حدود مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

عرب امارات کی طرف سے مذمت

متحدہ عرب امارات نے بھی قطر میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی حملوں کو قطر کی خودمختاری کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

امارات کی وزارت خارجہ کی طرف سے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ دوٹوک انداز میں قطر کی سلامتی کے خلاف ایرانی جارحیت کو مسترد کرتے ہیں۔ ان حملوں سے خطے کے استحکام اور سلامتی پر حملہ کیا گیا ہے۔

عرب امارات کی طرف سے قطر کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ نیز مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر جنگ بندی کی جائے اور مسئلے کا سفارتی حل تلاش کیا جائے۔

ایرانی حملوں پر مصر نے بھی مذمت کی ہے اور قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے جبکہ ایران کے حملوں کو قطر کی خودمختاری کے خلاف قرار دیا ہے۔

بحرین نے بھی ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے قطر کی حمایت کا اعلان کیا اور بین الاقوامی برادری سے اقدامات کا مطالبہ کیا۔

بحرین کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ہم قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ اومان، کویت ، عراق اور اردن نے بھی حملوں کی مذمت کی ہے اور قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔

مراکش نے بھی ایران کے میزائل حملوں کو جارحیت قرار دیا۔ عرب ملکوں میں مجموعی طور پر ایرانی حملوں کی مذمت کی جارہی ہے۔

خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدوای نے بھی ایران کے حملوں کی سخت مذمت کی اور کہا یہ انتہائی حیران کن ہے۔ یہ حملے صرف قطر پر نہیں بلکہ پوری خلیج کونسل پر حملہ ہے۔

عرب پارلیمان نے بھی قطر میں ایرانی حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔ فرانس کی طرف سے بھی قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا ہے۔

جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ یہ واقعہ بڑا ہی الارمنگ ہے اور اس سے کشیدگی مذید بڑھنے کا خطرہ ہے۔ ان کی طرف سے یہ بیان ان کے ترجمان نے جاری کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں