ایرانی پارلیمنٹ : ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کرنے کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

گزشتہ دنوں کے دوران ایران کی جانب سے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) اور اس کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی پر مسلسل تنقید کے پس منظر میں، ایرانی پارلیمنٹ نے آج بدھ کے روز ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے قانون کی منظوری دے دی ہے۔ یہ بات ایرانی خبر رساں ادارے "ایسنا" نے بتائی۔
یہ قانون فی الحال ابتدائی منظوری کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ اس پر حتمی فیصلہ ملک کی سپریم قومی سلامتی کونسل کرے گی، جو اس اقدام کی آخری منظوری دے گی۔

یہ ووٹنگ ایسے وقت میں ہوئی جب تہران کے اعلیٰ حکام نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بارہا اشارہ دیا تھا کہ ایران ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کرنے پر غور کر رہا ہے، جس کا صدر دفتر ویانا میں ہے۔

گروسی پر شدید الزامات

اس پیش رفت سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر سینئر حکام نے گروسی پر اسرائیلی حملے میں "ملوث ہونے" اور "ساز باز" کے الزامات لگائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے دو ہفتے قبل جاری ہونے والی رپورٹ ایک "سیاسی دستاویز" تھی، جس نے اسرائیل کو ایران پر غیر معمولی حملہ کرنے کا جواز فراہم کیا۔

ایرانی جوہری توانائی تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ میں گروسی کے خلاف باقاعدہ شکایت درج کرائے گی۔ دریں اثنا متعدد ایرانی سیاست دانوں نے گروسی کے ایران میں داخلے پر پابندی لگانے کا مطالبہ بھی کیا، خاص طور پر اس بنیاد پر کہ وہ اس وقت خاموش رہے جب اسرائیل اور امریکا نے ایران کی پُر امن جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، حالانکہ ایران کا ایجنسی کے ساتھ تعاون پر مبنی معاہدہ موجود ہے۔

دوسری جانب، اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والی اس ایجنسی کے ڈائریکٹر نے منگل کے روز ایک بیان میں ایران سے تعاون بحال کرنے کا مطالبہ کیا، اور اسے ایران کے جوہری تنازع کے سفارتی حل کے لیے لازمی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایجنسی کے معائنہ کار تمام تنازع کے دوران ایران میں موجود رہے اور وہ جوہری تنصیبات میں واپس جا کر یورینیم کے ذخائر کی تصدیق کرنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ ذخائر 60 فی صد تک افزودہ 400 کلوگرام سے زائد یورینیم پر مشتمل ہیں، جو کہ ہتھیاروں کی سطح کے افزودگی سے انتہائی قریب ہے۔

تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ 22 جون کو امریکا کی شدید بم باری کے بعد ... جس میں فردو، اصفہان اور نطنز کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، ان ذخائر کا کیا ہوا۔ ان تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کی اصل نوعیت بھی ابھی تک معلوم نہیں، حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم گزشتہ دو روز کے دوران بارہا دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایرانی جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے، جس کی ایران نے تردید کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں