محمود عباس کی طرف سے امریکی صدر ٹرمپ کی ایران اسرائیل جنگ بندی پر پذیرائی
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف کی ہے کہ وہ ایران و اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع تر جنگ کے راستے میں رکاوٹ پیدا کر دی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ کے نام لکھے گئے اس خط میں انہوں نے ان کی پذیرائی کرنے کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان بھی جنگ بندی ممکن بنائیں جہاں اکتوبر 2023 سے جنگ جاری ہے اور اب تک 56 ہزار سے زائد فلسطینی اسرائیلی بمباری میں قتل کیے جا چکے ہیں۔ جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
صدر محمود عباس نے مزید کہا 'فلسطینی اتھارٹی امریکہ کے ساتھ مل کر اس سلسلے میں کام کرنے کو تیار ہیں۔ نیز سعودی عرب اور دوسرے عرب ملکوں کے ساتھ یورپی اقوام کے ساتھ مل کر بھی اس سلسلے میں کوششیں کرنے کو تیار ہیں تاکہ ایک جامع امن کا عمل ممکن بنایا جا سکے۔'
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل وحماس کے درمیان جنگ کے خاتمے ، اسرائیلی قبضہ ختم کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مذاکرات کی تیاری کی جا چکی ہے۔ اس لیے آپ اس ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں اور ایک آزاد، خومختار اور محفوظ فلسطینی ریاست وجود میں آسکے۔
صدر فلسطینی اتھارٹی محمود عباس نے امید و اطمینان کا اظہار کیا کہ صدر ٹرمپ اپنی اہلیت کی وجہ سےخطے میں ایک نئی تاریخ رقم کر سکیں گے اور امن بحال ہوگا۔ جو ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ضروری ہے۔ جبکہ ہماری کئی نسلیں اس سے محروم ہو چکی ہیں۔
-
ایرانی تنصیبات کو مٹا ڈالا ... غزہ معاہدہ بہت قریب ہے : ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ ...
بين الاقوامى -
غزہ میں جنگ بندی کے لیے ثالثی فریقوں کے ساتھ رابطے تیز ہو گئے ہیں : حماس
حماس کے ایک ذمے دار نے تصدیق کی ہے کہ ثالثوں اور فلسطینی تحریک کے درمیان جنگ بندی ...
مشرق وسطی -
غزہ : اسرائیلی فوج نے 25 مزید فلسطینی قتل کردیے، 6 مقتولین خوراک لینے والوں کی قطارمیں تھے
غزہ کے شہری دفاع کے ادارے نے بدھ کے روز اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل ہونے والے مزید ...
مشرق وسطی