خوراک اور امدادی سامان لوٹنے کا حماس پر اسرائیلی الزام ، فلسطینیوں نے مسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ کے با اثر خاندانوں پر مشتمل ایک کمیٹی نے جمعرات کے روز اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ حماس امدادی سامان کی لوٹ مار کر رہی ہے۔ حماس پر یہ الزام اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے عائد کیا تھا۔

نیتن یاہو نے یہ الزام لگا کر اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ کی مسلسل ناکہ بندی سے توجہ ہٹا کر خوراک کی انتہائی قلت کی ذمہ داری حماس پر ڈالنا چاہی تھی۔ تاکہ اسرائیل پر بین الاقوامی سطح پر جاری تنقید کا رخ بھی موڑ سکیں۔

یاد رہے اسرائیل کی طرف سے غزہ کی فوجی ناکہ بندی کے چار ماہ ایک ہفتے تک مکمل ہو جائیں گے۔ انسانی برادری کی طرف سے ناکہ بندی کو سخت غیر قانونی ، انسانیت دشمنی اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کو بھوک کا ہتھیار کرنے کا مرتکب کہا جارہا ہے۔

انسانی حقوق کے بعض اداروں کی طرف سے بھی اسرائیل کو غیر معمولی مذمت کا سامنا ہے۔ کیونکہ اقوام متحدہ سمیت یہ سب انسانی حقوق ادارے سمجھتے ہیں کہ اسرائیل غزہ میں قحط کے حالات پیدا کر کے یہاں سے فلسطینیوں کو جبری انخلا پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ جیسا کہ غزہ ریویرا کے سلسلے میں بھی باتیں سامنے آچکی ہیں۔

اس سب سے توجہ ہٹانے لیے بدھ کے روز وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع کاٹز نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ان کے پاس ایسی اطلاعات پہنچی ہیں کہ حماس کھانے پینے کا سامان لوٹ رہی ہے۔ اسی مقصد کے لیے وہ شمالی غزہ میں امدادی سامان اور خوراک پر کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس سلسلے میں نیتن یاہو نے فوج کو حکم دیا ہے کہ حماس کی امدادی سامان تک رسائی روکنے کا بندوبست کرے۔ تاہم جنگ کے دوران غزہ میں قائم ہونے والی معززین کی اس آزاد کمیٹی نے اسرائیل کا حماس پر یہ الزام غلط قرار دے دیا ہے۔

اس کمیٹی نے کہا ہے کہ جو بھی امدادی سامان غزہ میں بمشکل پہنچ پاتا ہے صرف بین الاقوامی اداروں کے ذریعے تقسیم کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں