امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ غزہ میں ایک ہفتے کے اندر جنگ بندی ممکن ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ نے یہ بات جمعے کے روز وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ یہ تقریب جمہوریہ کانگو اور روانڈا کے درمیان امن معاہدے کی خوشی میں منعقد کی گئی تھی۔
انھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ غزہ میں جنگ بندی عن قریب ہونے والی ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ وہ ابھی کچھ ہی دیر قبل اُن افراد سے گفتگو کر رہے تھے جو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق، صدر ٹرمپ اور اُن کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور اسرائیلی وزیر برائے تزویراتی امور رون دیرمر کے ساتھ ٹیلیفون پر مذاکرات کیے۔ بات چیت میں غزہ کی جنگ کو "دو ہفتوں کے اندر" ختم کرنے کے لیے مفاہمت تک پہنچا گیا۔
اخبار "اسرائیل ہیوم" کے مطابق اس معاہدے میں حماس کی قید میں موجود یرغمالیوں کی رہائی، اور حماس کی باقی قیادت کو دیگر ممالک منتقل کرنے کی شقیں شامل ہیں، جو ایک بڑے تصفیے کا حصہ ہے جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
اخبار کے مطابق اس معاہدے میں یہ بھی شامل ہے کہ اسرائیل فلسطینی تنازع کے حل کے لیے ... اسرائیل دو ریاستی حل پر غور کے لیے آمادہ ہو گا، بشرطیکہ فلسطینی اتھارٹی کے اندر اصلاحات کی جائیں۔
-
العربیہ کا عملہ غزہ میں اسرائیلی حملے میں بال بال بچ گیا
غزہ میں جاری ناکہ بندی کے دوران دو شیر خوار بچوں کی غذائی قلت اور دودھ کی کمی سے ...
مشرق وسطی -
غزہ میں خوراک کی تلاش موت کی سزا نہیں بننی چاہیے: گوتریس
خوراک کی تقسیم کے مراکز کی طرف جاتے ہوئے 500 سے زائد افراد جاں بحق اور تقریباً ...
مشرق وسطی -
غزہ: دو شیر خوار بچے غذائی قلت اور دودھ کی کمی کے باعث موت کے منہ میں چلے گئے
خوراک اور ادویات کی قلت سے مرنے والوں کی تعداد 244 ہو گئی، خیمے پر اسرائیلی بمباری ...
مشرق وسطی