آئی اے ای اے کی رپورٹ ہماری ایٹمی سہولیات پر حملے کا بہانہ تھی: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کو سیاسی دباؤ سے ہٹ کر اپنے قوانین اور قراردادوں کے دائرہ کار میں کام کرنا چاہیے جیسا کہ انہوں نے کہا۔ انہوں نے تہران میں ایک قانونی کمیٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا جو بین الاقوامی اداروں کو اسرائیلی حملوں اور ان سے ایران کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں باضابطہ رپورٹ پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حملے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی تھے۔

بقائی نے اقوام متحدہ کی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کی رپورٹ کو 13 جون کو ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کا ایک بہانہ قرار دیا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ تہران نے انتہائی افزودہ یورینیم کی پیداوار کو تیز کر دیا ہے۔ 60 فیصد کے قریب افزدوہ یورینیم فوجی استعمال کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ ایسے وقت میں معمول کے تعاون کی ضمانت نہیں دے سکتا جب IAEA کے معائنہ کاروں کی حفاظت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ یورپ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بقائی نے انکشاف کیا کہ ایران اور یورپ کے درمیان رابطے جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ مذاکرات کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی۔

یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے امریکی انتظامیہ کے ساتھ جوہری مذاکرات میں واپسی کے لیے ایک نئی شرط پیش کی تھی۔ بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایران کے نائب وزیر خارجہ ماجد تخت روانچی نے کہا تھا کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے بشرطیکہ واشنگٹن ایران پر مزید حملوں کو مسترد کرے۔ روانچی نے مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ثالثوں کے ذریعے ایران کو مطلع کیا ہے کہ وہ مذاکرات میں واپس آنا چاہتا ہے لیکن انہوں نے بات چیت کے دوران مزید حملے کرنے کے "انتہائی اہم مسئلے" پر "اپنی پوزیشن واضح نہیں کی"۔

اسرائیل ایران محاذ آرائی

یاد رہے امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات چھٹے دور تک پہنچنے کے بعد ناکام ہو گئے تھے۔ 13 جون کو شروع ہونے والا اسرائیلی فوجی آپریشن چھٹے دور کی معطلی کا باعث بن گیا تھا۔ یہ دور 15 جون کو مسقط میں ہونا طے تھا۔ اسرائیل نے ایران پر اپنے حملے شروع کردیے اور جوہری اور فوجی مقامات کو نشانہ بنایا، ایران میں فوجی رہنماؤں اور سائنسدانوں کو قتل کردیا۔ ایران نے جواب میں اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ کیا۔ دونوں فریقوں کے درمیان تصادم بارہ دن تک جاری رہا۔ اسی دوران امریکہ نے تین ایرانی جوہری مقامات فردو، نظنز اور اصفہان پر بم گرا دیے۔ امریکی حملوں سے ایرانی جوہری پروگرام کو پہنچنے والے نقصان کی حد ابھی تک واضح نہیں ہوسکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں