غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج نے جمعرات کو کم از کم 25 افراد کو ہلاک کر دیا جن میں بے گھر فلسطینیوں کو پناہ دینے والے سکول میں ہلاک شدہ 12 افراد بھی شامل ہیں۔
پناہ دینے والے سکولوں کی عمارات بھی بار بار اسرائیلی حملوں کی زد میں آئی ہیں جبکہ فوج اکثر کہتی ہے کہ حماس کے مزاحمت کار شہریوں کے درمیان چھپے ہوئے ہیں۔
جمعرات کو غزہ شہر میں شہری دفاع کے اہلکار محمد المغائر نے اے ایف پی کو بتایا، "الریمل محلے میں بے گھر افراد کو پناہ دینے والے مصطفیٰ حفیظ سکول پر اسرائیلی فضائی حملے میں 12 افراد شہید ہو گئے جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی تھی اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے۔"
اے ایف پی کی فوٹیج میں چھوٹے بچوں کو سوختہ، بمباری زدہ عمارات کے باہر گھومتے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ سوختہ ملبے کے ڈھیروں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔
اے ایف پی کے رابطہ کرنے پر اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ اس رپورٹ کے ساتھ ساتھ وسطی غزہ میں ایک اور واقعے کا بھی جائزہ لے رہی تھی جہاں مغائر کے مطابق اسرائیلی فائرنگ سے انسانی امداد کے متلاشی افراد ہلاک ہوئے۔
شہری دفاع کے اہلکار نے بتایا کہ امدادی سامان کے تقسیمی مرکز کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں فلسطینیوں کے ایک گروپ کے چھے افراد ہلاک اور "بڑی تعداد میں زخمی" ہو گئے۔
یہ مہلک واقعات کے سلسلے میں تازہ ترین واقعہ ہے جس نے قلیل امدادی سامان حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے لوگوں کو متأثر کیا ہے۔
مغائر نے کہا کہ جمعرات کو غزہ کے شمالی قصبے بیت لاہیا میں توپ خانے کی گولہ باری سے تین افراد اور شمال میں بھی جبالیہ پر حملے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ مزید جنوب میں المواصی کے ساحلی علاقے میں بے گھر لوگوں کے خیموں پر حملے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔
دسمبر 2023 میں اسرائیل کی طرف سے محفوظ زون قرار دیئے جانے کے باوجود المواصی بار بار حملوں کی زد میں رہا ہے۔