سوئٹزرلینڈ نے دو ہفتے کی بندش کے بعد تہران میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا

یہ ایران میں امریکی مفادات کی باضابطہ نمائندگی کرتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

سوئٹزرلینڈ نے اتوار کے روز کہا ہے کہ وہ تہران میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول رہا ہے جو گذشتہ ماہ اسرائیل کے ساتھ فضائی جنگ کے دوران بند کر دیا گیا تھا اور وہ ملک میں امریکی مفادات کی نمائندگی دوبارہ شروع کرے گا۔

سوئس وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا، "ملک میں حالات کے عدم استحکام کی وجہ سے 20 جون کو عارضی طور پر بندش کے بعد اتوار کو سفارت خانہ دوبارہ کھل گیا ہے"۔

سفیر نادین اولیویری لوزانو اور ان کی ایک مختصر ٹیم ہفتے کے روز آذربائیجان کے راستے تہران واپس پہنچی اور سفارت خانہ بتدریج دوبارہ کام شروع کر دے گا۔

"اب تہران واپس آ جانے کے بعد سوئٹزرلینڈ ایران میں امریکی مفادات کی حفاظت کرنے والی طاقت کے طور پر دوبارہ اپنا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔"

امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی یا قونصلر تعلقات کی عدم موجودگی میں سوئٹزرلینڈ اپنے سفارت خانے کے ذریعے تہران میں کام کرتا ہے اور 1980 سے ایران میں امریکی مفادات کی باضابطہ نمائندگی کر رہا ہے۔

تہران اور واشنگٹن 12 اپریل سے اب تک ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے پانچ ادوار منعقد کر چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size