مقبوضہ فلسطین کے علاقے شمالی غزہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل اور حماس کی لڑائی کے دوران پانچ اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے۔
مزاحمت کاروں کے ہاتھوں اسرائیل کو یہ دھچکا ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان فائر بندی کے لیے قطر میں بالواسطہ مذاکرات دوبارہ جاری ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ دو فوجی شمالی غزہ میں لڑائی کے دوران مارے گئے، جب کہ اسی واقعے میں تین دیگر فوجی بھی ہلاک اور دو شدید زخمی ہوئے۔
فوج کے مطابق زخمی فوجیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کے اہلِ خانہ کو اطلاع دے دی گئی ہے۔
ایک اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے آئی ڈی ایف کی ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے بتایا کہ پیدل فوج کے جوانوں زمینی کارروائی کے دوران رات 10 بجے کے کچھ دیر بعد ایک سڑک کے کنارے نصب بم کا نشانہ بنے۔ فوجی پیدل چل رہے تھے اور گاڑی کے اندر نہیں تھے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق زخمی اہلکاروں کو نکالنے کی کوشش کے دوران فورسز پر علاقے میں فائرنگ بھی کی گئی، زخمی ہونے والے 14 اہلکاروں میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں حملہ کیا گیا اسے فوجی کارروائی سے قبل فضائی حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔ زخمی فوجیوں کی تعداد 14 بتائی جا رہی ہے۔
یہ ہلاکتیں گذشتہ ہفتے دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ہوئی ہیں جو بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گئے۔ جاری مذاکرات کے باوجود جھڑپیں اور اسرائیل کے فضائی حملے جاری ہیں جس سے امن کی کوششوں مزید مشکل ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کی رات واشنگٹن میں نتن یاہو سے ملاقات کی، جس میں سیز فائر اور قیدیوں کی رہائی کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا۔