جنگ بندی مذاکرات کا دوحا میں پانچواں روز
اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالثوں کے توسط سے ہونے والے جنگ بندی مذاکرات جمعرات کو پانچویں روز میں داخل ہوگئے۔
مذاکرات سے متعلق ایک باخبر ذریعے نے 'اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ ان مذاکرات کے ذریعے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے 22ویں مہینے میں داخل ہونے کے بعد جنگ بندی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
اس سے پہلے کئی راؤنڈ ہو چکے ہیں تاہم نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا۔ مذاکرات کا نیا سلسلہ اتوار کے روز دوحا میں شروع ہوا تھا۔ جن کے نتیجے میں امید وابستہ کی گئی ہے کہ امریکہ کی حمایت سے پیش کیے گئے فریم ورک کے مطابق 60 دنوں کے لیے جنگ بندی ممکن بنا لی جائے گی۔
اسرائیل اور قطر دونوں کے نمائندے مسلسل دوحا میں موجود ہیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملہ کی حساسیت کی وجہ سے ہم اس بارے میں تفصیلات میں نہیں جا سکتے۔
تین روز پہلے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی نمائندہ وٹکوف نے کہا تھا کہ زیادہ تر نکات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے صرف ایک نکتہ باقی ہے۔ جس پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
ان مذاکرات کے دوران ہی قطری نمائندوں اور امریکی نمائندوں کے درمیان واشنگٹن میں ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ اس سے ایک روز پہلے پیر کی رات صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان بھی غزہ جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کا معاملہ زیر بحث آیا۔
قطر کے ساتھ ساتھ مصر اور امریکہ بھی ثالثوں میں شامل ہے تاکہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیل اور فلسطینیوں کی اس طویل ترین جنگ کو روکا جا سکے۔
امریکی اعلیٰ عہدیداروں کا خیال ہے کہ اگلے چند دنوں یا یفتوں میں جنگ بندی کا غالب امکان ہے۔
اب تک غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران 57 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے جبکہ لاکھوں فلسطینی بے گھر ہیں۔
-
مذاکرات جاری رہے تو جنگ بندی میں توسیع کے پابند ہیں : ویٹکوف کا حماس کو پیغام
امریکی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ نے کہا ہے کہ اسرائیل نے حماس کا یہ مطالبہ مسترد کر ...
مشرق وسطی -
قومی مفاد کو ترجیح دی جائے .... فتح موومنٹ کا حماس تنظیم پر زور
حماس اور اسرائیل کے درمیان باقی رہ جانے والا بنیادی اختلاف اسرائیلی فوج کے غزہ سے ...
مشرق وسطی -
حماس غزہ معاہدے کے تحت 10 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی پر آمادہ
تنظیم نے تصدیق کی ہے کہ بنیادی نقاط ابھی تک زیر بحث ہیں
مشرق وسطی