غزہ: حماس اسرائیلی فوج کی موجودگی میں جنگ بندی نہیں کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

حماس نے دوحا میں جاری جنگ بندی مذاکرات کے پانچویں دور میں اپنے مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ اسے ایسی جنگ بندی قبول نہیں ہوگی جس میں اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا شامل نہ ہو۔

جمعرات کے روز جب حماس نے کچھ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کی پیش کش کی تو غزہ کے شہری دفاع نے اسی دوران رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے متعدد فلسطینیوں کو مختلف علاقوں میں قتل کر دیا ہے۔

خیال رہے حماس نے سات اکتوبر 2023 سے زیر حراست لیے گئے اسرائیل کے باقی ماندہ قیدیوں میں سے دس کی رہائی سے اتفاق کیا ہے۔

دونوں فریق جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی عہدے داروں کی طرف سے اس امید کا اظہار جاری ہے کہ 60 دنوں کے لیے جنگ بندی ممکن بنا لی جائے گی اور اسرائیلی قیدی چھوٹ جائیں گے۔

لیکن حماس کی طرف سے کہا گیا ہے آزادانہ طور پر خوراک کی غزہ میں ترسیل کا مطالبہ نہ مانا گیا تو قیدیوں کی جزوی رہائی کی جائے گی۔ اسی طرح غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلا بھی ایک مشکل نکتہ ہے۔ جس پر ابھی اتفاق نہیں کیا گیا۔

حماس پائیدار امن کے لیے ضمانتیں بھی چاہتا ہے۔ مزاحمتی گروپ کے سینیئر رہنما باسم نعیم نے جمعرات کے روز اس بارے میں بات چیت کرتے ہوئے کہا ' جلد سے جلد اور مستقل جنگی خاتمے کے لیے 'کمٹڈ' ہے۔'

اس کے ساتھ ہی باسم نعیم نے ' اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا ' فلسطینی غزہ پر دشمن کے قبضے کو برقرار رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ نہ ہی اسرائیلی فوج کے زیر قبضہ کسی حصے میں اپنے لوگوں کے ہتھیار ڈالنے پر اتفاق کریں گے۔ '

ان کا کہنا تھا دوحا میں ہمارا وفد انہی نکات پر مذاکرات کے لیے موجود ہے۔ یاد رہے حماس رفح پر اسرائیلی فوجی قبضے کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ رفح کی راہداری مصر سے جڑی ہوئی ہے۔ اسی طرح موراخ راہداری کا معاملہ ہے جوخان یونس شہر کے درمیان سے گزرتی ہے۔

اس سال کے شروع میں اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ اس کی فوج نے غزہ کا بڑا حصہ قبضے میں کر لیا ہے۔ جبکہ مقامی باشندوں سے علاقہ خالی کرا رہی ہے۔ تاکہ حماس پر اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔

باسم نعیم نے بھی کہا ان کا گروپ چاہتا ہے کہ غزہ میں امریکی حمایت یافتہ گروپ 'غزہ فاؤنڈیشن' کے ذریعے خوراک کی تقسیم کا سلسلہ بند ہو۔ اس امداد تقسیم کرنے والے ادارے کے ہاتھوں خوراک کے حصول کے دوران سینکڑوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔

سوال جن کے جواب نہ دیے گئے!

حماس اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے کوئی ٹائم لینے دینے کو تیار نہں ہے۔ نہ ہی قید کے دوران مرنے والے 9 اسرائیلوں کی لاشیں دینے کی کوئی تاریخ دی ہے۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ کا دورہ مکمل کیا۔ جس میں فوکس جنگ بندی پر ہی رہا۔
نیتن یاہو اس وقت اسرائیل کے اندرونی دباؤ کے علاوہ فوج کے اندر سے بھی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں کہ فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ کی ان کی دو اہم ملاقاتوں میں انہوں نے یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی کے لیے تیار ہیں۔

اس بارے میں صدر ٹرمپ بھی بہت پر امید ہیں کہ قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے لیے معاہدہ ہو جائے گا۔
جبکہ غزہ میں برسر زمین فلسطینیوں کی ہلاکتیں جاری ہیں اور جمعرات کے روز اسرائیلی بمباری سے 52 فلسطینی ہلاک ہوئے۔اسرائیلی فوج نے اس پر اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

بتایا گیا ہے کہ 17 بچوں میں سے 8 بچے اس وقت قتل کیے گئے جب وہ دیر البلاح میں علاج کے لیے قائم ایک طبی مرکز کے باہر کھڑے تھے۔ جبکہ بمباری کے اور واقعات میں بھی کئی لوگوں کو ہلاک کیا گیا اور 3 افراد امداد تقسیم کرنے والے ادارے کے مرکز کے قریب نشانہ بنائے گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز کم از کم 29 لوگ قتل کیے گئے اور منگل کے روز یہ تعداد 26 تھی جبکہ پیر کو 12 افراد قتل کیے گئے۔

اب تک اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل کیے گئے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 57680 ہو چکی ہے۔ جن میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں