تل ابیب میں ہزاروں مظاہرین نے قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیا، جب کہ اسرائیلی میڈیا کے مطابق دوحہ میں حماس کے ساتھ مذاکرات ابھی تک جاری ہیں اور تعطل کا شکار نہیں ہوئے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ اور خبر رساں اداروں کے مطابق ہفتے کے روز ہزاروں اسرائیلی شہری تل ابیب کے مظاہروں کے مقام پر جمع ہوئے، جہاں انہوں نے بینرز اور کتنبے اٹھا رکھے تھے جن پر ’’قیدیوں کی واپسی کے بغیر کوئی کامیابی ممکن نہیں‘‘ کے نعرے درج تھے۔
اسرائیلی چینل 13 کے مطابق مظاہروں میں شریک افراد نے دوپہر اور شام کے اوقات میں مظاہرہ کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ جلد از جلد مکمل کیا جائے۔
اس وقت تل ابیب کا ماننا ہے کہ غزہ میں تقریباً 50 اسرائیلی قیدی موجود ہیں، جن میں سے 20 زندہ ہیں۔
ادھر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا ایک اور دور جاری ہے، جس میں قطر، مصر اور امریکہ بہ طور ثالث شریک ہیں۔ مذاکرات کا مقصد جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے پر ایک وسیع معاہدے تک پہنچنا ہے۔
گذشتہ تقریباً 20 ماہ کے دوران اسرائیل اور حماس کے درمیان کئی بار مذاکرات ہو چکے ہیں، جن کی میزبانی قطر، مصر اور امریکہ نے کی۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں دو مرتبہ جنگ بندی کا اعلان بھی ہوا، پہلی بار نومبر 2023ء میں اور دوسری بار جنوری 2025ء میں ہوا۔ ان معاہدوں کے دوران محدود تعداد میں قیدیوں کا تبادلہ بھی عمل میں آیا۔
تاہم اسرائیلی اپوزیشن وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو پر الزام لگا رہی ہے کہ وہ صرف جزوی معاہدوں کے ذریعے جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں تاکہ اپنی سیاسی بقا کو یقینی بنا سکیں، بالخصوص اپنی حکومت کے دائیں بازو کے حلقے کو مطمئن رکھنے کے لیے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے ہفتے کو اطلاع دی ہے کہ دوحہ میں جاری غیر مستقیم مذاکرات ناکام نہیں ہوئے۔ چینل 12 نے ایک اعلیٰ سیاسی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ’’مذاکرات جاری ہیں اور اسرائیلی وفد ابھی بھی دوحہ میں بات چیت میں شریک ہے، حالانکہ حماس کی جانب سے کچھ رکاوٹیں موجود ہیں‘‘۔
چینل 13 نے بھی ایک سیاسی ذمہ دار کا بیان نقل کیا ہے جس کے مطابق ’’دوحہ میں ہفتے کے روز مذاکرات ہوئے اور اسرائیلی وفد مصری و قطری ثالثوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے‘‘۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ اسرائیلی وفد کا براہِ راست رابطہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور وزیر برائے اسٹریٹجک امور رون دِرمَر کے ساتھ قائم ہے اور یہ وفد قطری تجویز کی بنیاد پر دوحہ بھیجا گیا تھا۔
اسی سلسلے میں ایک سیاسی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ ’’حماس مذاکرات میں لچک نہیں دکھا رہی اور دانستہ طور پر نفسیاتی دباؤ ڈال کر بات چیت کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہی ہے‘‘۔