شام : دروز قبیلے کے اکثریتی شہر میں تصادم ، 13 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام کے جنوبی شہر سویدا میں دروز قبیلے کے افراد اور جنگجوؤں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں اتوار کے روز 13 افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ علاقہ دروز قبیلے کی اکثریتی آبادی کا حامل علاقہ ہے۔

شام میں جنگی صورتحال کو مانیٹر کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ علاقے میں صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کو بھیج دیا گیا ہے۔

یہ واقعہ دروز قبیلے اور جنگجوؤں کے درمیان اب تک کا سب سے بڑا تصادم کا واقعہ ہے جب سے دونوں کے درمیان تصادم کا آغاز ہوا ہے۔ یہ تصادم کئی ماہ سے چل رہا ہے۔ علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے متعدد افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

انسانی حقوق کے نام پر قائم شامی آبزرویٹری کے مطابق ہلاک ہونے والے 13 افراد میں سے 10 کا تعلق دروز قبیلے سے ہے۔ دو کا تعلق بدو قبیلے سے ہے اور ایک مارے جانے والے شخص کی شناخت ہونا باقی ہے۔ جبکہ مجموعی طور پر 40 افراد زخمی ہیں۔

مقامی ٹی وی چینل 'سویدا 24' نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا ہے کہ 10 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوئے ہیں۔

چینل کے مطابق سویدا اور دمشق کے درمیان ہائی وے ان تشدد کے واقعات کی وجہ سے بند ہے۔

شامی حکومت سے متعلقہ ایک ذریعے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ حکام امن و امان کے لیے علاقے میں سیکیورٹی فورسز کو بھیج رہے ہیں۔

سویدا کے گورنر نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور قومی سطح پر ہونے والے اصلاحاتی عمل میں تعاون کریں۔

شام میں دروز قبیلے کی آبادی 7 لاکھ کے قریب ہے۔ یہ سب سے زیادہ آبادی سویدا کے علاقے میں ہے۔ جبکہ سویدا میں بدو قبائل کے ساتھ دروز کا اکثر تصادم اور جھگڑا ہو جاتا ہے۔

بشارالاسد کی حکومت جانے کے بعد نئی حکومت کی کوشش ہے کہ وسیع پیمانے پر امن کا قیام ممکن بنا سکے۔

دروز قبیلے اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان ماہ اپریل میں تصادم کے واقعات سامنے آچکے ہیں۔ تاہم بعدازاں مقامی رہنماؤں نے ایک معاہدے پر دستخط کر کے اس کشیدگی کو روکنے کی کوشش کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں