دوحا : غزہ جنگ بندی مذاکرات کی کامیابی کے لیے ثالثوں نے کوششیں تیز کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک ہفتے سے زیادہ دنوں سے جاری دوحا مذاکرات کے باوجود عملا مذاکرات کا ابھی پہلا مرحلہ ہی جاری ہے۔ اس امر کا اظہار منگل کے روز قطر کی طرف سے کیا گیا ہے۔

قطر اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے جاری مذاکرات میں ایک کلیدی ثالث کے طور پر موجود ہے۔ جو شروع سے ہی فریقین کے درمیان جنگ بندی کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

قطر کے وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کی طرف سے رپورٹرز کو بتایا گیا ہے کہ مذاکراتی عمل معاہدے کے فریم ورک کے لیے جاری ہیں۔ اسرائیل اور حماس دونوں کے وفود دوحا میں موجود ہیں۔ جبکہ ثالث ملکوں نے معاہدے کو ممکن بنانے کے لیے اپنی کوششیں تیز تر کر رکھی ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا ' ابھی یہ مذاکراتی عمل اپنے پہلے مرحلے میں ہے۔ خصوصا مذاکرات کو کسی نتیجے تک پہنچانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ان شاء اللہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ بھی شروع ہوگا۔

ان کوششوں کے باوجود بے یقینی کی فضا موجود ہے جس کی وجہ سے اختتام ہفتہ کے موقع پر ایک ڈیڈ لاک کی کیفیت تھی۔ کیونکہ دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر مذاکرات کو ناکام بنانے کا الزام لگایا جا رہا تھا۔

ماجد الانصاری نے کہا ہم نہیں کہہ سکتے کہ کب ایک معاہدہ ممکن ہو جائے اور کب جاری مذاکراتی عمل رک جائے۔

اتوار کے روز حماس کے ذرائع نے کہا تھا کہ اسرائیل کی اپنی فوج کو غزہ میں رکھنے کی تجویز جنگ بندی کے لیے پیش رفت کو روکے ہوئے ہے۔

قطری ترجمان نے مزید کہا کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ کوئی جمود پیدا نہیں ہوگا۔ تاہم یہ بھی نہیں کہ سکتے کہ پیش رفت کب تک ہوگی۔ گویا منظر ابھی واضح نہیں ہے۔

مذاکرات میں شامل جنگ میں شریک فریق ہیں یعنی اسرائیل اور حماس ۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ اور مصر مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ قطر مذاکراتی ٹیموں کا میزبان ہے اور مذاکرات کامیاب بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں