امریکی پابندیاں میرے استثنیٰ کی 'خلاف ورزی' ہیں: خصوصی نمائندہ برائے فلسطین، اقوامِ متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فلسطینی امور کے لیے اقوامِ متحدہ کی غیر متزلزل ماہر فرانسسکا البانیز نے منگل کو کہا کہ غزہ کے بارے میں وائٹ ہاؤس کے مؤقف پر ان کی تنقید کے بعد واشنگٹن کی پابندیاں ان کے استثنیٰ کی "خلاف ورزی" ہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ان کے کام کو متعصبانہ اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے ان پر امریکی پابندیوں کا اعلان کیا تھا جس کے تقریباً ایک ہفتے بعد البانیز کا یہ تبصرہ سامنے آیا ہے جبکہ وہ بوگوٹا کے دورے پر تھیں۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ البانیز نے کولمبیا کے دارالحکومت میں سامعین کو بتایا، "یہ بہت سنجیدہ اقدام ہے۔ یہ بے مثال ہے۔ اور میں اسے بہت سنجیدگی سے لیتی ہوں۔"

غزہ تنازعے کا حل تلاش کرنے کے لیے کولمبیا کے بائیں بازو کے صدر گستاو پیٹرو کے شروع کردہ بین الاقوامی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے البانیز بوگوٹا میں موجود تھیں۔

اطالوی قانونی معلم اور انسانی حقوق کی ماہر کو ان کے اِن دیرینہ الزامات پر سخت تنقید کا سامنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں "نسل کشی" کر رہا ہے۔

البانیز نے کہا، "یہ استحقاق اور استثنیٰ سے متعلق اقوامِ متحدہ کے کنونشن کی واضح خلاف ورزی ہے جو اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں بشمول آزاد ماہرین کو ان الفاظ اور اقدامات سے تحفظ فراہم کرتا ہے جو ان کی ذمہ داریوں کے خلاف اٹھائے گئے ہوں۔"

روبیو نے نو جولائی کو اعلان کیا کہ واشنگٹن نے البانیز کے خلاف پابندیاں عائد کیں جو "امریکی اور اسرائیلی حکام، کمپنیوں اور ان کے سربراہان کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت کی فوری کارروائی کے لیے ان کی ناجائز اور شرمناک کوششوں کے لیے" تھیں۔

البانیز نے کہا کہ پابندیاں "ہر اس شخص کے لیے ایک انتباہ ہے جو بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق، انصاف اور آزادی کا دفاع کرنے کی جرأت کرتا ہو۔"

جمعرات کے روز اقوامِ متحدہ نے امریکہ پر البانیز کے خلاف اور ساتھ ہی بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ججز کے خلاف پابندیاں واپس لینے پر زور دیا جبکہ اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوٹیرس کے ترجمان نے اس اقدام کو "خطرناک نظیر" قرار دیا۔

جمعے کے روز یورپی یونین نے بھی البانیز کو درپیش پابندیوں کے خلاف بات کی اور مزید کہا کہ وہ "اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے نظام کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔"

البانیز جنہوں نے 2022 میں اپنا عہدہ سنبھالا، اس ماہ کمپنیوں کی مذمت پر مبنی ایک رپورٹ جاری کی جن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان کمپنیوں نے "مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی قبضے، نسل پرستی، اور اب نسل کشی کی اسرائیلی معیشت سے فائدہ اٹھایا"۔ ان میں سے اکثر کمپنیاں امریکی ہیں۔

رپورٹ پر اسرائیل کا شدید ردعمل سامنے آیا جبکہ بعض کمپنیوں نے اعتراضات بھی اٹھائے۔

البانیز جیسے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندگان آزاد ماہرین ہوتے ہیں جن کا تقرر اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کرتی ہے لیکن وہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے بات نہیں کرتے۔

یاد رہے کہ غزہ کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کے ہاتھوں علاقے میں 58,479 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں