غزہ : اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کی نسل کشی جاری کھی، دو خواتین سمیت 18 جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ میں قائم شہری دفاع کے ادارے نے منگل کے روز بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے مزید 18 فلسطینیوں کو قتل کیا ہے۔ ان میں دو وہ خواتین بھی شامل ہیں جو امدادی مرکز سے اپنے بھوکے اور قحط زدہ بچوں کے لیے خوارک لینے آئی تھیں۔

جنگ جس کا آغاز اکتوبر 2023 میں ہوا تھا۔ اب تک اسرائیل کی طویل ترین جنگ بن چکی ہے جس میں اہم نشانہ فلسطینی عورتیں اور بچے ثابت ہوئے ہیں۔ اٹھاون ہزار چار سو سے زائد فلسطینیوں کو قتل کیا گیا ہے اور ان میں بچوں و عورتوں کی تعداد دوتہائی سے زیادہ ہے۔ جبکہ بیس لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے بمباری کر کے بے گھر کر دیا ہے۔ کئی ماہ سے بدترین ناکہ بندی کر کے اسرائیلی فوج دوسری بار غزہ کے ان بے گھروں پر اسرائیلی ساختہ قحط مسلط کیے ہوئے ہے۔

شہری دفاع کے ادارے کے مطابق منگل کے روز اسرائیلی فوج نے مزید 18 فلسطینیوں کو جاں بحق کرنے کے علاوہ بہت سوں کو زخمی کر دیا ہے۔

ان میں سے زیادہ تر کو اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں بمباری کر کے نشانہ بنایا ہے۔ جبکہ بمباری کا نشانہ کچھ فلسطینیوں کو غزہ سٹی میں بھی بنایا گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں چھ فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔

اسی طرح رفح کے علاقے میں امدادی مرکز آنے والے افراد کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں دو خواتین جاں بحق اور 13 دیگر زخمی ہو گئے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق اب تک اسرائیلی فوج نے 875 فلسطینیوں کو امداد لینے آنے پر امدادی پوائنٹس کے نزدیک ہلاک کیا ہے۔

منگل کے روز غزہ شہر کے مضافات میں، الشطی پناہ گزین کیمپ سے متعلق ' اے ایف پی' کی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ فلسطینی ایک خاندان کے گھر کے ملبے سے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں جس میں شہری دفاع کا کہنا ہے کہ حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

کنکریٹ سے بنے اب ملبے کے ڈھیر ہیں۔ ملبہ کھودنے کے لیے اپنے ننگے ہاتھ استعمال کرنے والے فلسطینی جہاد عمر نے کہا کہ وہ دو بچوں کی تلاش میں ہیں۔ 48 سالہ شخص نے کہا انہیں بمباری کے بعد اپنے دو بچوں کی تلاش ہے۔

انہوں نے ' اے ایف پی' سے اپنی بپتا کہتے ہوئے کہا ہم ہر روز بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کی لاشیں ملبے سے نکالتے اور انہیں دفن کرتے ہیں۔ کہ وہ اپنے ہی گھروں کے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو جاتے ہیں۔

جہاد عمر نے کہا اس صورت حال کو بہتر کرنا ہوگا ۔ اس کا کوئی حل دینا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا جو بچ گئے ہیں تاکہ اپنے بچوں کی پرورش کرسکیں۔

اس دوران حماس نے اپنی سیاسی رہنما محمد فراج الغول کے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل ہونے کی اطلاع دی ہے۔

وہ غزہ میں حماس کی حکومت کے وزیر رہ چکے ہیں۔ 'اے ایف پی' نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

البتہ اسرائیلی فوج نے ٔالشاطی کیمپ' کے علاقے میں حماس کے متعدد ارکان کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے۔ نیز فوجیوں نے جنوبی غزہ میں خان یونس کے علاقے میں ایک سرنگ کو ختم کر دینے کا دعوی کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں