غزہ سے 10 اسرائیلی قیدیوں کو جلد رہا کیا جائےگا: ڈونلڈ ٹرمپ

بنجمن نیتن یاھو کی حکومت پر فلسطینی ذرائع کی تنقید، دوحہ میں مذاکرات کا نیا دور جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ جلد ہی غزہ سے مزید 10 اسرائیلی قیدیوں کو بازیاب کروایا جائے گا۔ تاہم، انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

صدر ٹرمپ نے یہ بات وائٹ ہاؤس میں ارکانِ کانگریس کے ساتھ عشائیے کے دوران کہی۔

انہوں نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف کی اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے جاری کوششوں کی سراہا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھاکہ "ہم نے بیشتر قیدیوں کو بازیاب کرا لیا ہے۔ مزید دس اسرائیلی قیدیوں کو بہت جلد واپس لایا جائےگا۔ ہمیں امید ہے کہ یہ عمل جلد مکمل ہو جائے گا"۔

اسرائیلی رضاکار اور قیدیوں کے لواحقین ایران کے ساتھ جاری تنازع کے جلو میں 21 جون 2025 کو لیکوڈ پارٹی کے صدر دفتر کے باہر یرغمالیوں کی رہائی کے لئے مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اے ایف پی
اسرائیلی رضاکار اور قیدیوں کے لواحقین ایران کے ساتھ جاری تنازع کے جلو میں 21 جون 2025 کو لیکوڈ پارٹی کے صدر دفتر کے باہر یرغمالیوں کی رہائی کے لئے مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اے ایف پی

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوحہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان 6 جولائی سے جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔ ان مذاکرات میں امریکہ کی حمایت یافتہ 60 روزہ جنگ بندی کی تجویز پر بات چیت ہو رہی ہے۔

اس دوران ایک فلسطینی ذریعے نے العربیہ/الحدث کو بتایا کہ اسرائیل نے تاحال ان نقشوں پر کوئی ردعمل نہیں دیا جو ثالثوں نے غزہ کے حوالے سے پیش کیے تھے۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ جمعے کے دن تک قیدیوں کے تبادلے پر مذاکرات کا آغاز بھی نہیں ہوا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل اب تک انسانی امداد سے متعلق ثالثوں کی تجاویز پر مبہم موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ دوحہ میں موجود اسرائیلی وفد کی حیثیت محض علامتی ہے۔

اسی فلسطینی ذریعے نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ حماس مذاکرات میں سستی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ان کے بقول اصل میں اسرائیل کی جانب سے ردعمل میں تاخیر ہو رہی ہے۔

یہ بیان ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا جب جمعے کو کچھ باخبر ذرائع نے بتایا کہ تل ابیب کی حکومت دوحہ میں قیدیوں کے تبادلے سے متعلق جاری بات چیت میں پیش رفت کی کوشش کے تحت اپنے سینئر حکام پر مشتمل دوسرا وفد بھیجنے پر غور کر رہی ہے۔

اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق تل ابیب مذکورہ وفد کی تشکیل اور اس کے مینڈیٹ پر غور کر رہا ہے تاہم مذاکرات میں زیر بحث تجاویز یا وفد کی تفصیلات سے متعلق مزید معلومات نہیں دی گئیں۔

مذاکرات جاری ہیں

یاد رہے کہ حماس نے جمعے کے روز کہا تھا کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے اپنے قیدیوں کو طاقت کے ذریعے چھڑوانے میں ناکامی اس بات کا ثبوت ہے کہ اسے اب صرف مزاحمت کی شرائط کے مطابق تبادلے کی راہ اپنانی پڑے گی۔

واضح رہے کہ یہ مذاکرات مصر، قطر اور امریکہ کی ثالثی سے دوحہ میں جاری ہیں جو 6 جولائی سے بالواسطہ انداز میں ہو رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں