امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا ہے کہ امریکہ نے شام پر حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں کی حمایت نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک اسرائیل اور شام دونوں سے اعلیٰ ترین سطح پر رابطے میں ہے تاکہ بحران کو حل کیا جا سکے اور پائیدار امن کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کا وژن واضح ہے، یہ وژن ایک مستحکم شام، ایک پرامن علاقہ اور پڑوسیوں کے درمیان امن پر مبنی ایک زیادہ خوشحال مشرق وسطیٰ پر مبنی ہے۔
The U.S. is engaging Israel and Syria at the highest levels to defuse the crisis and advance lasting peace. @POTUS’ vision is clear: a stable Syria, a peaceful region, and a more prosperous Middle East—built on peace among neighbors. pic.twitter.com/Bi1wATjdw5
— Tammy Bruce (@statedeptspox) July 18, 2025
اسرائیلی فضائی حملے
اسرائیل نے بدھ کے روز دمشق پر شدید فضائی حملے کیےجن میں وزارت دفاع کے صدر دفتر اور شامی دارالحکومت میں صدارتی محل کے قریب کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملے جنوبی صوبے سویداء میں تشدد میں اضافے کے ایک دن بعد کیے گئے۔ اسرائیلی فریق کے مطابق یہ حملے شامی حکومت کے دروز برادری کے خلاف حملوں کے جواب میں کیے گئے تھے۔ اسرائیل نے زور دیا تھا کہ اسرائیل دروزیوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دے گا۔
لسویداء صوبہ میں 13 جولائی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے جو مقامی مسلح گروہوں اور شامی حکومت کے حامی بدوی قبائل کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں شروع ہوئی تھی۔ یہ جھڑپیں صوبے کے دیہی علاقوں میں تنازعات کو حل کرنے کی کارروائیوں کے دوران ہوئیں اور ان کے نتیجے میں شہری اور فوجی اہلکاروں کی ہلاکتیں اور زخمی ہوئے۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے فضائیہ کے ذریعے درعا اور دمشق میں شامی افواج کو نشانہ بنایا۔ یہ اعلان کرتے ہوئے کہ ان کا مقصد حکومتی افواج کو جنوب کی طرف بڑھنے سے روکنا ہے۔
جنگ بندی
شامی وزارت داخلہ نے بدھ کے روز سویداء میں 14 نکات پر مشتمل جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کیا جس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ تمام فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر روکا جائے۔ نفاذ کی نگرانی کے لیے شامی ریاست اور دروزی شیوخ پر مشتمل ایک مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی جائے۔