سعودی شاہی دیوان نے شہزادہ ولید بن خالد بن طلال کی وفات کا اعلان کردیا اور بتایا ہے کہ ان کی نماز جنازہ اتوار 19 جولائی 2025 کو ریاض شہر کی امام ترکی بن عبداللہ مسجد میں نماز عصر کے بعد ادا کی جائے گی۔ مرحوم شہزادے 1990 میں پیدا ہوئے تھے اور 2005 میں ایک ٹریفک حادثے کا شکار ہوئے جس کے نتیجے میں وہ تقریباً 20 سال تک کومے اور غنودگی کی حالت میں رہے۔
"الأمير النائم".. نهاية حزينة لغيبوبة طويلة امتدت 20 عاما وسط تعاطف واسع على منصات التواصل الاجتماعي
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) July 19, 2025
#الوليد_بن_خالد_بن_طلال pic.twitter.com/JbuI1LKAPI
انہیں "سوئے ہوئے شہزادے" کے نام سے جانا جاتا تھا۔ مرحوم شہزادے کی کہانی نے گزشتہ کئی سالوں سے بیداری کی امیدوں کے درمیان وسیع رد عمل حاصل کیا تھا۔
{يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ، ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً، فَادْخُلِي فِي عِبَادِي، وَادْخُلِي جَنَّتِي}
— خالد بن طلال بن عبد العزيز ( أبو الوليد ) (@allah_cure_dede) July 19, 2025
بقلوب مؤمنة بقضاء الله وقدره وببالغ الحزن والأسى ننعى إبننا الغالي
الأمير الوليد بن خالد بن طلال بن عبدالعزيز آل سعود رحمه الله
الذي انتقل… pic.twitter.com/QQBbMWGOOG
مرحوم کے والد شہزادہ خالد نے اپنے بیٹے کی وفات پر اپنے "ایکس" اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں تعزیت کا اظہار کیا اور کہا "اے اطمینان والی روح، اپنے رب کی طرف راضی اور خوش ہو کر لوٹ آ، اور میرے بندوں میں شامل ہو جا، اور میری جنت میں داخل ہو جا ‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کے فیصلے اور تقدیر پر ایمان رکھتے ہوئے اور انتہائی غم اور دکھ کے ساتھ ہم اپنے پیارے بیٹے شہزادہ ولید بن خالد بن طلال کی وفات کا اعلان کرتے ہیں جو آج اللہ کی رحمت میں چلے گئے۔