اسرائیلی فوج کے ٹینکوں کی دیر البلح کی سمت پیش قدمی

مزاحمت کاروں کے پاس قید اسرائیلیوں کے اہل خانہ کی تشویش میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

اسرائیل نے غزہ شہر، دیر البلح کے علاوہ غزہ کے جنوبی و مشرقی حصوں میں ٹینکوں کے لیے ٹینکوں والے ڈویژن کو مزید آگے کی طرف پیش قدمی کا کہا ہے۔یہ نئی جنگی پیش رفت کے اقدمات ایسے حالات میں پیر کے روز سامنے آئے ہیں جب دس دن سے زائد کے لیے دوحہ میں جنگی بندی مذاکرات ہوئے مگر نتیجہ خیز نہ ہو سکے۔

اس سے ایک روز قبل اسرائیلی فوج نے لگ بھگ غزہ کے انہی حصوں میں لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کو ایک بار پھر جبری انخلاء کا حکم دیا تھا۔ اب اگلے روز اپنے ٹینکوں کو آگے بڑھنے کا حکم دیا ہے۔

اس پر فلسطینی شہریوں کی تشویش تو اپنی جگہ خود اسرائیل کے اپنے شہری اور خصوصا غزہ میں قید اسرائیلیوں کے لواحقین، اہل خانہ اور رشتہ داروں کو بھی ایک بار پھر زیادہ تشویش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کہ اس سے قبل جنگ بندی اور قیدیوں کو جلد گھروں کو واپس لانے کی خبریں سنائی جارہی تھیں اور اب پھر جنگی شدت میں اضافے کی تیاری ہے۔

ادھر ٹینکوں کی اس نئی پیش قدمی کے ساتھ ہی غزہ کے طبی شعبے کے حکام نے بتایا ہے کہ کم از کم تین فلسطینی ٹینکوں کی گولہ باری سے ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ دریں اثناء اس گولہ باری سے 8 گھر اور 3 مسجدیں بھی مسمار کر دی گئی ہیں۔

اس گولہ باری اور ٹینکوں کی کارروائیوں سے مزید درجنوں گھرانوں کو نقل مکانی کرنی پڑی ہے۔ یہ فلسطینی نقل مکانی کر کے ساحلی علاقے اور مغربی غزہ کی طرف نکلے ہیں۔

ان نئے بے گھر فلسطینیوں کی آمد سے کچھ دیر پہلے خان یونس میں ہی اسرائیلی فوج نے فضائی بمباری کر کے کم از کم 5 فلسطینیوں کو قتل کر دیا تھا۔ ان پانچ ہلاک کیے گئے فلسطینیوں میں ایک ہی خاندان کے چار افراد بھی شامل ہیں۔ ان چار میں میاں بیوی اور ان کے دو بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔ تاہم ان تازہ نازیت پر مبنی اسرائیلی اقدامات اور ہلاکتوں پر اسرائیلی فوج نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

البتہ اسرائیلی فوج نے یہ ضرور کہا ہے کہ اس نے دیر البلاح مزید کوئی نفوذ بڑھایا نہیں ہے۔ اس علاقے سے انخلاء کی ضرورت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اگلے دنوں میں اس علاقے میں کارروائیوں اور ان کے نتیجے میں مزاحمت کی کیا صورت کیا رہتی ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے ان علاقوں میں حماس کے انفراسٹرکچر کا مکمل خاتمہ اور جنگی استعداد کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔

اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی اس علاقے میں پیش قدمی نہیں کی ہے کہ انہیں شبہ ہے کہ دیر البلح میں اسرائیلی قیدی چھپا کر رکھے گئے ہیں۔ ان قیدیوں کے اہل خانہ کو تشویش ہے۔ وہ فوج سے مطالبہ کرتے ہیں کہ قیدیوں کو غزہ میں تحفظ دیا جائے۔

بھوک کا تسلط

غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے کے ساتھ ہی طبی عملے نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی فوج وسیع پیمانے پر نئی ہلاکتوں کی تیاری کر رہی ہے جبکہ اس دوران بھوک سے بھی فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کے بڑھنے کا خدشہ واضح نظر آ رہا ہے۔ جیسا کہ ہفتہ کے روز سے اب تک 19 فلسطینی محض بھوک کی وجہ سے جاں بحق ہوچکے ہیں۔

طبی حکام نے ہسپتالوں کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے کہا ان میں نہ ادویات ہیں، نہ ایندھن کی سہولت ہے نہ طبی آلات ہیں اور نہ ہی کوئی ایسا ساز و سامان جو زخمیوں اور مریضوں کی خوراک کا ذریعہ بن سکے۔ اس لیے بہت خطرہ ہے کہ بچی کچھی علاج کی سہولتیں بھی دم توڑ جائیں گی۔

وزارت صحت کے ترجمان نے کہا طبی عملہ بھی خوراک کی کمی کا شکار ہے اور دن میں اسے صرف ایک بار کھانا مل رہا ہے۔ جبکہ ہسپتالوں میں ہر روز سینکڑوں لوگوں کی آمد ہوتی ہے۔ ان میں سے بڑی تعداد بھوک سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہوتی ہے لیکن ہسپتالوں میں ایسے لوگوں کے لیے کوئی مداوا موجود نہیں ۔

خیال رہے اتوار کے روز کم از کم 67 لوگوں کو اسرائیلی فوج نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا جب وہ اقوام متحدہ کے ٹرکوں پر آنے والی امداد کے لیے منتظر کھڑے تھے۔

اسرائیلی فوج کا وہی روایتی جواب ہے کہ اس کے فوجیوں نے یہ محض انتباہی فائرنگ کی تھی کیونکہ ہزاروں افراد پر مشتمل یہ ہجوم ان کے لیے کسی فوری خطرے کا باعث بھی بن سکتا تھا اس لیے انہیں منتشر کرنا ضروری تھا۔

فوج نے مزید کہا کہ بالکل ہمارا مقصد فلسطینیوں کو نشانہ بنانا نہیں تھا بلکہ انہیں وہاں سے منتشر کرنا تھا کہ کہیں ہزاروں افراد پر مشتمل یہ ہجوم فوجیوں کے لیے خطرہ نہ بن جائے۔

فوج نے کہا ہے کہ ابتدائی طور پر جو ہلاکتوں کی تعداد بتائی گئی ہے وہ زیادہ بتائی گئی ہے۔ اس کے باوجود ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں جان بوجھ کر نہیں مارا ہے نہ ہی ہم نے امدادی ٹرکوں کو نشانہ بنایا ہے۔

ہلاکتوں کے اس بڑھے ہوئے اضافے کے بعد دوحہ میں جاری مذاکرات کا معاملہ اور پیچیدہ ہو رہا ہے اور ان میں جاری مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ ان مذاکرات کے لیے قطر، مصر اور امریکہ ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

دوحہ میں مذاکرات کا یہ مقصد بتایا گیا ہے کہ دونوں فریق 60 دنوں کے لیے جنگ بندی کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک کسی پیش رفت کا اشارہ سامنے نہیں آسکا۔

'انروا' نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر کہا ہے کہ اسے غزہ سے فلسطینیوں کے ایسے پریشان کر دینے والے پیغامات موصول ہو رہے ہیں جس میں وہ بھوک اور قحط کے اضافے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ 'انروا' کا اپنا سٹاف بھی اس صورتحال میں خوراک بننے والی اشیاء کی قیمتوں میں 40 گنا اضافے کی اطلاعات دے رہا ہے۔

یاد رہے غزہ سے باہر 'انروا' کے پاس اس کے گوداموں میں کافی خوراک موجود ہے جو پورے غزہ کے لوگوں کے لیے اگلے تین ماہ کے لیے کافی ہو سکتی ہے لیکن اس کے لیے لازم ہے کہ اسرائیلی فوج ناکہ بندی ختم کر کے انہیں غزہ کے اندر خوراک اور امدادی سامان لے جانے کی اجازت دے۔

اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز کہا تھا کہ وہ دیکھتی ہے کہ انسانی بنیادوں پر غزہ میں امدادی سامان اور خوراک کی انتہائی ضرورت ہے اور اس کے لیے وہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ پورا تعاون کر رہی ہے۔

سات اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اس جنگ میں 58700 سے زائد فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے قتل کیا ہے۔ جن میں بڑی تعداد فلسطینی عورتوں اور بچوں کی ہے۔ اسرائیلی فوج کی بمباری سے انفراسٹکچر تباہ ہے اور قحط و بھوک اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث خوفناکی سے بڑھ رہی ہے.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں