سعودی عرب نے منگل کے روز مغربی ممالک کے ایک گروپ کے اُس بیان کا خیرمقدم کیا ہے جس میں غزہ جنگ فوراً ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس طرح مملکت نے اسرائیل کی طرف سے انسانی امداد کی ناکہ بندی اور شہریوں کو نشانہ بنانے کےعمل کو مسترد کرنے کا اعادہ کیا ہے۔
برطانیہ، فرانس اور کینیڈا سمیت مغربی ممالک کے ایک گروپ نے پیر کے روز کہا کہ اسرائیل کو محصور پٹی پر اپنی جنگ فوری طور پر ختم کرنی چاہیے اور انہوں نے فلسطینیوں کے "غیر انسانی قتل" اور "امداد کی قلیل مقدار" پر تنقید کی۔
دستخط کنندگان نے اپنے بیان میں کہا، "غزہ میں شہریوں کی تکالیف نئی پستیوں تک پہنچ چکی ہیں۔ اسرائیلی حکومت کا امدادی ترسیل کا ماڈل خطرناک ہے، یہ عدم استحکام کو ہوا دیتا اور غزہ کے باشندوں کو انسانی وقار سے محروم کرتا ہے"۔
نیز کہا گیا، "یہ بات خوفناک ہے کہ 800 سے زائد فلسطینی امداد کے حصول کے دوران قتل کر دیئے گئے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کا شہری آبادی کو ضروری انسانی امداد سے انکار ناقابلِ قبول ہے۔ اسرائیل کو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی تعمیل کرنی چاہیے۔"
مملکت کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں "امداد روکنے اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے اسرائیلی قابض حکام کے مسلسل غیر انسانی طرزِ عمل" کو مسترد کرنے کا بھی اعادہ کیا جو "خوراک، ادویات اور پانی کی بنیادی ضروریات تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔"
امداد کے حصول میں سینکڑوں فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے ایک بڑی تعداد غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کے تقسیمی مراکز کے قریب موجود تھی۔
سعودی عرب نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی "ڈھٹائی" کو روکنے کی غرض سے فیصلہ کن اور عملی اقدامات اٹھانے کے لیے "تیزی سے" کام کرے کیونکہ اُس کا مقصد بحران کو دانستہ طول دینا اور امن کی تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچانا ہے۔