عالمی گولڈ کونسل نے جمعرات کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران ایران میں سونے کی خریداری میں اضافہ ہوا جس کی نشاندہی اسرائیل کے ساتھ ملک کے 12 روزہ تنازعے سے ہوئی۔
کونسل نے کہا کہ بلند قیمتوں کے باوجود سونے کی فروخت کا مجموعی حجم گذشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 20 فیصد بڑھ گیا اور سونے کے سکوں اور اینٹوں کی طلب اب چھے سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طلائی سکوں اور اینٹوں کی عالمی طلب میں گذشتہ تین ماہ کے دوران دوسری سہ ماہی میں چھے فیصد کمی واقع ہوئی۔
کونسل کے تجزیہ کار لوئیس سٹریٹ نے کہا، "ایران سب پر سبقت لے گیا۔ صارفین نے پراکسی سرمایہ کاری کے طور پر سونے کے زیورات خریدے جس سے سہ ماہی میں طلب میں سال بہ سال 12 فیصد اضافہ ہوا۔"
اسی عرصے کے دوران زیورات کی عالمی طلب میں 14 فیصد کمی واقع ہوئی حالانکہ خریداری کی قیمت میں 21 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سٹریٹ نے کہا، صارفین نے "اپنے بجٹ میں اضافہ کیا" کیونکہ وہ عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتِ حال میں محفوظ سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں۔
سٹریٹ نے کہا، امریکی ٹیرف کے مطالبات اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی جس سے پہلی سہ ماہی میں سونے کی قیمتیں خاص طور پر سونے کی صورت میں سرمایہ کاری فنڈز کی اہمیت برقرار رہے، ان کی وجہ سے اپریل-جون کی سہ ماہی میں سونے کی سرمایہ کاری کے طور پر اس کی قدر برقرار رہی۔