اقوم متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے جمعہ کے روز ایک بار پھر ضمیر سے اندھی بہری انسانیت کو متوجہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ مئی کے اواخر سے اب تک غزہ میں 1373 فلسطینی صرف اس وجہ سے قتل کر دیے گئے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو بھوک اور قحط کے سبب مرنے سے بچانے کے لیے امداد تقسیم کرنے والے مراکز پر جمع ہوئے تھے۔
انسانی حقوق کے اس ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان میں سے غالب اکثریت کو اسرائیل کی فوج نے قتل کیا ہے۔ کیونکہ ان فلسطینیوں نے امداد تقسیم کرنے والے ادارے کے باہر رش لگا رکھا تھا۔
یاد رہے غزہ کی آبادی تقریبآ 23 لاکھ ہے۔ جن میں سے بیس لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو کر بار بار نقل مکانی سے گذر چکے ہیں۔ ان فلسطینیوں کو بھوک کے ہتھیار سے مارنے کی اسرائیلی ریاست نے زیادہ بہتر اور موثر منصوبہ بندی پر دو مارچ سے عمل شروع کرتے ہوئے سخت ترین ناکہ بندی کی ہے۔
مگر جو امدادی ادارہ امریکہ کی مدد سے اسرائیل نے غزہ میں فعال بنایا ہے ۔صرف اس ادارے کے امدادی مراکز کے قریب جمع 859 فلسطینیوں کو گولیوں سے چھلنے کر کے قتل کیا گیا ہے کہ وہ خوراک کے حصول کے لیے آئے تھے اور موت دے کر واپس بھیج دیے گئے۔ ان میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ زخمی کیے گئے افراد کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔
جبکہ بقیہ 514 فلسطینی آن راستوں پر مارے گئے جن پر وہ امداد کی امید میں چل رہے تھے یا کہیں رک گئے تھے کہ انہیں اسرائیلی ریاست نے امید دلائی تھی کہ امدادی ٹرک اسی راستے سے غزہ میں آئیں گے۔