غزہ سے متعلق امریکی منصوبہ: حماس کو غیر مسلح کرنا اور تمام یرغمالیوں کی ایک ساتھ رہائی

ایک اعلیٰ سطح کے اسرائیلی عہدے دار نے انکشاف کیا ہے کہ طے پانے والے نکات میں حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا شامل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکا اور اسرائیل کے درمیان اس بات پر بڑھتا ہوا اتفاق رائے سامنے آیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں محدود جنگ بندی اور چند اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بجائے ایک جامع اور سخت تر حل کی طرف بڑھا جائے، جس میں غزہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کیا جائے۔

جامع اور زیادہ سخت حل

ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدے دار نے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیفن ویٹکوف اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ملاقات کے بعد، روئٹرز کو بتایا کہ دونوں ممالک نے کئی نکات پر اتفاق کیا ہے۔ ان میں غزہ کو زیادہ امداد فراہم کرنا، موجودہ فوجی کارروائیاں جاری رکھنا اور ایک ایسا منصوبہ شامل ہے جس کے تحت حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کیا جائے گا اور تمام اسرائیلی قیدیوں کو ایک ہی مرحلے میں رہا کرایا جائے گا۔

عہدے دار نے کہا کہ اس منصوبے کی تفصیلات پر کام جاری ہے، تاہم مزید وضاحت نہیں دی گئی۔

اسٹیفن ویٹکوف 31 جولائی کو اسرائیل پہنچے تھے، جہاں انھوں نے نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ بات چیت میں غزہ کی انسانی صورت حال اور جنگ بندی کی کوششیں زیر بحث آئیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ ویٹکوف جمعہ کے روز غزہ کا دورہ کریں گے تاکہ انسانی امداد کی فراہمی سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

مذاکراتی وفد کا واپس بلایا جانا

گزشتہ ماہ27 جولائی کو حماس کے رہنما خلیل الحیہ نے کہا تھا کہ غزہ پر جاری محاصرے کے پیش نظر اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کی بات چیت بے معنی ہے۔

اس سے قبل 24 جولائی کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دوحہ میں جاری مذاکرات سے اسرائیلی وفد کو واپس بلانے کی ہدایت کی تھی۔ مذاکرات 6 جولائی سے جاری تھے اور ان کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا تھا۔

امریکی ایلچی اسٹیفن ویٹکوف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر لکھا کہ امریکا نے بھی اپنا وفد دوحہ سے واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ حماس کے حالیہ رد عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے تیار نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں