لبنان میں آج منگل کے روز متوقع کابینہ کے اجلاس میں ریاست کے سوا تمام مسلح گروہوں سے اسلحہ واپس لینے کی تجویز پر غور ہونا ہے۔ اجلاس سے قبل عوامی سطح پر تشویش اور بے چینی کی فضا قائم ہے، اور کسی بھی ممکنہ نا خوش گوار واقعے کے اندیشے کے پیشِ نظر اضطراب پایا جاتا ہے۔
اس دوران پیر کی شب حزب اللہ کے حامیوں نے مختلف علاقوں میں موٹر سائیکل ریلیاں نکالیں، جنہیں متعدد سیاست دانوں اور صحافیوں نے "دھمکی اور انتباہ" کے پیغام کے طور پر دیکھا۔ اس کا مقصد ریاستی سطح پر حزب اللہ سے اسلحہ واپس لینے کی منظوری نہ دی جا سکے۔
اسی حوالے سے صحافی طونی بولس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر لکھا "حزب اللہ کابینہ کے متوقع اجلاس سے قبل ایک خطرناک سیکیورٹی اقدام کی تیاری کر رہی ہے، اجلاس میں اسلحہ واپس لینے کے طریقہ کار اور مدت کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔ اس بات کی بھی اطلاع ہے کہ مٹھی سے بھرے ہوئے کچھ ٹرک کھڑے ہیں تاکہ سڑکیں بند کی جا سکیں"۔
جلسة حكومية مرتقبة حول مصير سلاح حزب الله.. والأخير يحذر من "فوضى عارمة"
— العربية لبنان (@Alarabiyaleb) August 5, 2025
#قناة_العربية#أخبار_الصباح#لبنان pic.twitter.com/W1YKIwLL7Y
سابق رکن پارلیمنٹ فارس سعید کا کہنا ہے کہ "میڈیا میں پھیلائی جانے والی یہ دھمکیاں دراصل کابینہ اجلاس کو مؤخر کرنے کی کوشش ہے، جو اسلحے کے معاملے پر فیصلہ کرنے کے لیے بلایا گیا ہے۔"
رکن پارلیمنٹ ندیم الجمیل نے حزب اللہ کے حامیوں کی ریلیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا "سیکیورٹی اداروں کو فوراً اپنی ذمے داری نبھانی چاہیے۔ سب کو واضح پیغام مل جانا چاہیے ... اگر سیکیورٹی ادارے ان دھمکیوں اور دباؤ کو روکنے کے لیے حرکت میں نہ آئے، تو پھر رد عمل میں عوام سڑکوں پر آئیں گے اور کوئی بھی خاموش تماشائی نہیں رہے گا۔"
🔴 يبدو أن "حزب الله" يستعد لعمل أمني خطير قبيل انعقاد جلسة مجلس الوزراء المرتقبة لإقرار آلية وجدول زمني لنزع سلاح الميليشيات.
— طوني بولس (@TonyBouloss) August 4, 2025
🔴 هناك معلومات عن وجود شاحنات محملة بالأتربة تستعد لقطع طرقات بالتزامن مع مسيرات لدرجات نارية وإطلاق شعارات طائفية وفتنوية.
🔴 على الدولة والأجهزة… pic.twitter.com/27GAvg0GgJ
یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب حزب اللہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے جنوبی لبنان سے انخلا اور پانچ باقی رہنے والے متنازع مقامات کے حل سے قبل اپنے اسلحے کو ریاست کے سپرد کرنے پر نہ بات چیت کرے گی اور نہ اس پر عمل کرے گی۔
ادھر امریکا کی جانب سے بھی لبنان پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ امریکی ایلچی ٹوم براک حالیہ مہینوں میں کئی بار لبنان کا دورہ کر چکے ہیں تاکہ اسلحے کو صرف ریاستی اداروں کے ہاتھ میں دینے کے منصوبے کو یقینی بنایا جا سکے۔
على الأجهزة الأمنيّة تحمّل مسؤوليّاتها فورًا، ولتكن واضحة المعادلة للجميع:
— Nadim Gemayel | نديم الجميّل (@nadimgemayel) August 4, 2025
ان لم تتصرف الاجهزة الامنية لردع محاولات التهديد والوعيد هذه، قبل جلسة الغد، فالشارع سيقابله شارع، ولن يبقى احد متفرّجًا! pic.twitter.com/aejzwTTuNk
یاد رہے کہ حزب اللہ نے گزشتہ سال اسرائیل کے ساتھ شدید جھڑپوں میں حصہ لیا تھا، جن میں اسے بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے بعد یہ لڑائی امریکی ثالثی میں جنگ بندی کے معاہدے پر ختم ہوئی۔
یہ معاہدہ 27 نومبر 2024 سے نافذ العمل ہوا۔ اس کے تحت حزب اللہ کو دریائے لیتانی کے جنوب سے انخلا اور وہاں اپنی فوجی تنصیبات ختم کرنے کا پابند بنایا گیا، جبکہ لبنانی فوج اور اقوام متحدہ کی عارضی فورس (یونفیل) کی تعیناتی کو بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اسی معاہدے میں اسرائیل کے مکمل انخلا کی شق بھی شامل تھی، لیکن اسرائیلی افواج اب بھی جنوبی لبنان کے پانچ اہم تزویراتی مقامات پر موجود ہیں، جن سے وہ سرحد کے دونوں جانب نظر رکھ سکتی ہیں۔