بیروت میں سکوت ... حزب اللہ کے حامیوں کی "رعب" پھیلانے والی ریلیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

لبنان میں آج منگل کے روز متوقع کابینہ کے اجلاس میں ریاست کے سوا تمام مسلح گروہوں سے اسلحہ واپس لینے کی تجویز پر غور ہونا ہے۔ اجلاس سے قبل عوامی سطح پر تشویش اور بے چینی کی فضا قائم ہے، اور کسی بھی ممکنہ نا خوش گوار واقعے کے اندیشے کے پیشِ نظر اضطراب پایا جاتا ہے۔

اس دوران پیر کی شب حزب اللہ کے حامیوں نے مختلف علاقوں میں موٹر سائیکل ریلیاں نکالیں، جنہیں متعدد سیاست دانوں اور صحافیوں نے "دھمکی اور انتباہ" کے پیغام کے طور پر دیکھا۔ اس کا مقصد ریاستی سطح پر حزب اللہ سے اسلحہ واپس لینے کی منظوری نہ دی جا سکے۔

اسی حوالے سے صحافی طونی بولس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر لکھا "حزب اللہ کابینہ کے متوقع اجلاس سے قبل ایک خطرناک سیکیورٹی اقدام کی تیاری کر رہی ہے، اجلاس میں اسلحہ واپس لینے کے طریقہ کار اور مدت کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔ اس بات کی بھی اطلاع ہے کہ مٹھی سے بھرے ہوئے کچھ ٹرک کھڑے ہیں تاکہ سڑکیں بند کی جا سکیں"۔

سابق رکن پارلیمنٹ فارس سعید کا کہنا ہے کہ "میڈیا میں پھیلائی جانے والی یہ دھمکیاں دراصل کابینہ اجلاس کو مؤخر کرنے کی کوشش ہے، جو اسلحے کے معاملے پر فیصلہ کرنے کے لیے بلایا گیا ہے۔"

رکن پارلیمنٹ ندیم الجمیل نے حزب اللہ کے حامیوں کی ریلیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا "سیکیورٹی اداروں کو فوراً اپنی ذمے داری نبھانی چاہیے۔ سب کو واضح پیغام مل جانا چاہیے ... اگر سیکیورٹی ادارے ان دھمکیوں اور دباؤ کو روکنے کے لیے حرکت میں نہ آئے، تو پھر رد عمل میں عوام سڑکوں پر آئیں گے اور کوئی بھی خاموش تماشائی نہیں رہے گا۔"

یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب حزب اللہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے جنوبی لبنان سے انخلا اور پانچ باقی رہنے والے متنازع مقامات کے حل سے قبل اپنے اسلحے کو ریاست کے سپرد کرنے پر نہ بات چیت کرے گی اور نہ اس پر عمل کرے گی۔

ادھر امریکا کی جانب سے بھی لبنان پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ امریکی ایلچی ٹوم براک حالیہ مہینوں میں کئی بار لبنان کا دورہ کر چکے ہیں تاکہ اسلحے کو صرف ریاستی اداروں کے ہاتھ میں دینے کے منصوبے کو یقینی بنایا جا سکے۔

یاد رہے کہ حزب اللہ نے گزشتہ سال اسرائیل کے ساتھ شدید جھڑپوں میں حصہ لیا تھا، جن میں اسے بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے بعد یہ لڑائی امریکی ثالثی میں جنگ بندی کے معاہدے پر ختم ہوئی۔

یہ معاہدہ 27 نومبر 2024 سے نافذ العمل ہوا۔ اس کے تحت حزب اللہ کو دریائے لیتانی کے جنوب سے انخلا اور وہاں اپنی فوجی تنصیبات ختم کرنے کا پابند بنایا گیا، جبکہ لبنانی فوج اور اقوام متحدہ کی عارضی فورس (یونفیل) کی تعیناتی کو بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اسی معاہدے میں اسرائیل کے مکمل انخلا کی شق بھی شامل تھی، لیکن اسرائیلی افواج اب بھی جنوبی لبنان کے پانچ اہم تزویراتی مقامات پر موجود ہیں، جن سے وہ سرحد کے دونوں جانب نظر رکھ سکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں