غزہ منصوبے پر نیتن یاہو اور فوج کے سربراہ کا اختلاف،ایال زامیر آپریشن کی لاگت پیش کریں گے

اسرائیلی چیف آف اسٹاف غزہ کی پٹی میں کسی نئے زمینی آپریشن یا توسیعی منصوبے کے سخت مخالف ہیں اور اپنے موقف پر قائم ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل میں تمام تر توجہ منگل کے روز کابینہ کے متوقع اجلاس پر مرکوز ہے، جہاں چیف آف اسٹاف ایال زامیر "کیبنٹ" کے سامنے غزہ میں طویل عرصے تک قیام کی لاگت سے متعلق تفصیلات فراہم کریں گے۔

اسرائیلی اخبار یدیعوت آحرونوت کے مطابق با خبر ذرائع نے بتایا ہے کہ ایال زامیر غزہ میں کسی نئے زمینی آپریشن یا توسیعی منصوبے کے سخت مخالف ہیں اور اس موقف پر قائم ہیں۔

ذرائع کے مطابق غزہ میں کسی شدید جنگی کارروائی کے نفاذ میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں اور اس کے لیے کم از کم چھ مکمل بریگیڈز کو حماس کے مضبوط ٹھکانے والے علاقوں بالخصوص غزہ شہر کے مغربی حصے میں تعینات کرنا پڑے گا۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں اسرائیلی فوج نے گزشتہ ایک سال سے کوئی بڑی کارروائی نہیں کی۔

غزہ پر مکمل کنٹرول

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ میں ممکنہ طور پر ایک نیا اور وسیع فوجی آپریشن شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

اسرائیلی چینل 12 کے مطابق نیتن یاہو کے دفتر کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے پیر کے روز انکشاف کیا کہ وزیر اعظم جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی بالواسطہ بات چیت کے تعطل کے بعد ... غزہ پر مکمل قبضے اور حملے کی توسیع کے حامی ہیں۔

نیتن یاہو کے قریبی حلقوں سے تعلق رکھنے والے چند اعلیٰ حکام نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج فلسطینی علاقے پر مکمل کنٹرول کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "فیصلہ ہو چکا، ہم غزہ کے مکمل قبضے کی طرف بڑھ رہے ہیں... کارروائیاں ان علاقوں میں بھی ہوں گی جہاں قیدی رکھے گئے ہیں۔ اگر اسرائیلی فوج کے سربراہ کو اس پر اعتراض ہے تو وہ استعفیٰ دے سکتے ہیں۔"

تاہم اسرائیلی اخبار معاریف نے دیگر ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ نیتن یاہو نے غزہ میں آپریشن جاری رکھنے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، اور بعض اطلاعات محض قیاس آرائیاں ہیں۔

یہ تمام خبریں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی کوششیں مکمل طور پر تعطل کا شکار ہو چکی ہیں، دونوں فریق اپنی اپنی شرائط پر قائم ہیں۔

دوسری جانب غزہ کی پٹی، جہاں لگ بھگ 25 لاکھ افراد مقیم ہیں، ایک شدید انسانی بحران سے دوچار ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ قحط کے دہانے پر کھڑا ہے، جب کہ اسرائیل نے اس ساحلی پٹی کی تمام سرحدی گزرگاہوں پر مکمل کنٹرول رکھا ہوا ہے ... اور گزشتہ کئی ماہ سے امداد کی فراہمی کو جزوی یا مکمل طور پر بند کیا ہوا ہے۔

اگرچہ حالیہ دنوں میں کچھ عرب اور مغربی ممالک نے غزہ میں امداد کی فضائی ترسیل کا آغاز کیا ہے، تاہم بین الاقوامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ فضائی طریقے سے امداد پہنچانا مہنگا اور غیر مؤثر ہے، کیونکہ اس طریقے سے اتنی مقدار میں سامان نہیں پہنچایا جا سکتا جتنا زمینی راستوں سے ممکن ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں