حزب اللہ اپنے ہتھیاروں کے دفاع کے لیے آئین کو جواز بناتی ہے.. قانونی ماہرین کیا کہتے ہیں؟

نعیم قاسم نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنانی آئین "مزاحمت" اور اس کے ہتھیاروں کی حفاظت کرتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

ایک طرف لبنانی حکومت اسلحے کو ریاست کے ما تحت یقینی بنانے سے متعلق شق پر غور کر رہی ہے، ساتھ ہی سال کے اختتام سے قبل اسلحہ سپردگی کے لیے ایک وقتی نظام الاوقات ترتیب دینے اور لبنانی فوج کو اس پر عمل درآمد کا اختیار دینے کا فیصلہ کر رہی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لبنانی صدر جوزف عون کے اس وعدے پر عمل ہو سکے کہ سال 2025 اسلحے کے محدود کرنے کا سال ہو گا اور تاکہ وزیراعظم نواف سلام کی حکومت اپنے وزارتی بیانیے کی پابند رہے، جس میں ملک کے تمام علاقوں پر ریاستی اقتدار قائم کرنے کی بات کی گئی تھی۔ دوسری جانب اس دوران حزب اللہ کے نائب سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے منگل کے روز ایک تعزیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا "مزاحمت طائف معاہدے کے آئینی حصے کا جزو ہے، جس میں لبنانی دفاع کے تمام ممکنہ طریقوں کا ذکر موجود ہے۔"

سیاسی رائے، کوئی قانونی اثر نہیں

اس بیان پر رد عمل کے طور پر متعدد حلقوں نے اسے آئین کی "تحریف" قرار دیا، کیونکہ آئین ریاستی اقتدارِ اعلیٰ کے سوا کسی بھی فریق کو اسلحے پر اختیار دینے کو تسلیم نہیں کرتا۔

گزشتہ سال اسرائیلی فضائی حملوں میں مارے جانے والے حزب اللہ کے سابق رہنماؤں حسن نصر اللہ اور ہاشم صفی الدین کی تصویروں والی ایک گاڑی بیروت کے مضافاتی علاقوں میں دکھائی دے رہی ہے - رائٹرز، 23 فروری، 2025
گزشتہ سال اسرائیلی فضائی حملوں میں مارے جانے والے حزب اللہ کے سابق رہنماؤں حسن نصر اللہ اور ہاشم صفی الدین کی تصویروں والی ایک گاڑی بیروت کے مضافاتی علاقوں میں دکھائی دے رہی ہے - رائٹرز، 23 فروری، 2025

اسی سلسلے میں سابق وزیرِ انصاف ابراہیم نجار نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" اور "الحدث ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو میں کہا "قاسم کا بیان محض ایک سیاسی رائے ہے جس کا کوئی قانونی یا آئینی وزن نہیں۔ آئین واضح طور پر ریاستی خود مختاری، اسلحے کی اجارہ داری اور جنگ و امن کے فیصلوں کے حق کو صرف ریاست کے لیے مخصوص کرتا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "حزب اللہ کے نائب سیکرٹری جنرل کا بیان آئین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ خود مختاری کے کسی بھی پہلو سے دست برداری آئینی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔"

نجار نے وضاحت کی کہ کسی کو بھی ... حتیٰ کہ کسی وزارتی بیان کے ذریعے بھی، ریاستی خود مختاری کے کسی عنصر سے دست بردار ہونے کا اختیار حاصل نہیں، کیونکہ وزارتی بیانات صرف سیاسی تقریریں ہوتی ہیں جو پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے دی جاتی ہیں۔

سلام کا قاسم کو جواب

نجار نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم نواف سلام نے وزارتی اجلاس کے بعد جو بیان دیا وہ قاسم کے بیان کا رد تھا۔

سلام نے کہا "یہ بیانیہ طائف معاہدے پر مبنی ہے، جس سے موجودہ لبنانی آئین نے جنم لیا اور جس میں ریاستی اقتدار کی مکمل بحالی، بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ لبنانی سرحدوں تک اور لبنانی ریاستی اداروں کے ذریعے تمام علاقوں پر تدریجی کنٹرول کی بات کی گئی ہے۔"

آئین میں "مزاحمت" کا کوئی ذکر نہیں

لبنانی بار کونسل کے سابق سربراہ جورج جریج نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" اور "الحدث ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے کہا "آئین میں 'مزاحمت' کی اصطلاح کا کوئی ذکر نہیں، نہ ہی اسلحہ بردار کسی گروہ کو قانون سے بالاتر کوئی حیثیت دی گئی ہے۔"

جنوبی لبنان میں لبنانی فوج
جنوبی لبنان میں لبنانی فوج

انہوں نے مزید کہا "اگر حزب اللہ نے خود کو کوئی داخلی شرعی حیثیت دے دی ہے، تو آئین میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جو اسے تسلیم کرے۔"

جریج کے مطابق "اقوام متحدہ کی رکن اکثر ریاستوں کے آئین کسی بھی غیر سرکاری عسکری سرگرمی کو تسلیم نہیں کرتے۔ اگر ریاست کو کسی اضافی دفاعی قوت کی ضرورت ہو تو یہ بھی فوج اور ریاست کے دائرہ کار میں آتی ہے۔"

انہوں نے کہا "اگر ایک فریق کو اسلحہ رکھنے کی اجازت ملی، تو دوسرے فریق بھی اسی دلیل کے ساتھ مسلح ہو سکتے ہیں ... اور اس سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔"

تاریخی فیصلہ

کل منگل کے روز قصرِ بعبدا میں صدر جوزف عون کی صدارت میں ہونے والے وزارتی اجلاس میں لبنانی کابینہ نے ایک "تاریخی" فیصلہ کرتے ہوئے فوج کو با ضابطہ طور پر اسلحہ جمع کرنے کے لیے عملی منصوبہ تیار کرنے کا کام سونپ دیا ہے۔

یہ منصوبہ ایسے مخصوص فریقوں کے لیے ہوگا جنہیں جنگی کارروائیوں کے خاتمے کے بعد سلامتی کی ذمے داری دی جا سکتی ہے۔ فوج اس منصوبے کو 31 اگست سے قبل کابینہ کے سامنے پیش کرے گی تاکہ منظوری لی جا سکے۔

بیروت سے
بیروت سے

کابینہ نے اعلان کیا ہے کہ اس موضوع پر آئندہ جمعرات کو دوبارہ بحث کی جائے گی۔

تجزیہ کاروں نے اسے "تاریخی" اقدام قرار دیا ہے ... کیونکہ یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت نے غیر ریاستی اسلحے کو رسمی طور پر ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حزب اللہ نے ریاست پر اپنی گرفت مضبوط کر رکھی تھی اور مختلف حکومتیں وزارتی بیانیوں میں "مزاحمت" کے لفظ کو شامل کرتی تھیں تاکہ حزب اللہ کو عسکری کارروائیوں کا جواز فراہم کیا جا سکے۔

یاد رہے کہ حزب اللہ کو اپنی عسکری تاریخ کی سب سے بڑی شکست اس وقت ہوئی جب اس نے "غزہ کی حمایت کی جنگ" کے نام سے اسرائیل کے خلاف محاذ کھولا، جس میں اس کے 4000 سے زائد ارکان اور کمانڈر مارے گئے، جبکہ 6000 سے زائد زخمی ہوئے۔

یہ جنگ نومبر 2024 کے آخر میں جنگ بندی معاہدے پر اختتام پذیر ہوئی، جس میں اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد اور جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی تعیناتی کی شق شامل تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں