اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے بدھ کو جنوبی لبنان کے ان علاقوں کا دورہ کیا جہاں اسرائیلی فوج تعینات ہے۔ یہ دورہ ایرانی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کی بیروت آمد کے موقع پر کیا گیا۔
بدھ کی صبح علی لاریجانی عراق سے بیروت پہنچے تھے۔ ایک روزہ سرکاری دورے کے دوران انہوں نے صدر جوزف عون، وزیر اعظم نواف سلام اور اسپیکر نبیہ بری سے ملاقات کی۔
علی لاریجانی کی بیروت موجودگی کے دوران اسرائیلی آرمی چیف جنرل زامیر نے ان لبنانی علاقوں کا معائنہ کیا جو اسرائیل نے حزب اللہ کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد اپنے قبضے میں لیے تھے۔
ایال زامیر نے بتایا کہ 27 نومبر 2024ء کے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اسرائیل لبنان پر 600 فضائی حملے کر چکا ہے جن میں 240 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق زامیر کے اس دورے میں ڈویژن 91 کے کمانڈر یووال گز اور دیگر فوجی حکام بھی موجود تھے۔ انہوں نے محاذ پر تعینات فوجیوں سے بات چیت بھی کی۔
ایال زامیر نے کہاکہ "ہم نے شمال میں سکیورٹی صورتحال بدل دی ہے اور پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال نہیں، خطرات کو دوبارہ ابھرنے نہیں دیں گے"۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ "ہم کئی محاذوں پر جنگ لڑ رہے ہیں اور خطرات کے مطابق اپنی حکمت عملی ترتیب دےرہے ہیں۔ تمام محاذوں پر ہماری موجودگی ہے اور ہمیں اب بھی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے"۔
اسی حوالے سے ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے کہا کہ حزب اللہ کا غیر مسلح کیا جانا پورے لبنان میں ہونا چاہیے، صرف جنوب میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے ساتھ "خاموشی خریدنے" کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران قدس فورس کے فوجی ردعمل کی اپیل کو نظرانداز کیا تھا۔