اسرائیلی فوج نے گزشتہ گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر بم باری کی۔
العربیہ/الحدث کے نمائندے کے مطابق اسرائیلی فوج نے خان یونس میں مکانات کو تباہ کرنے کے لیے روبوٹ استعمال کیے۔
نمائندے نے مزید بتایا کہ کچھ مکانات سے آگ کے شعلے بلند ہوتے دیکھے گئے اور اسرائیلی فوج نے جنوبی علاقے میں کئی مقامات کو دھماکوں سے تباہ کر دیا۔
قاہرہ میں اجلاس
یہ زمینی صورت حال اس وقت سامنے آئی ہے جب محصور فلسطینی علاقے میں انسانی بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے، خوراک کی کمی اور غذائی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ادھر ثالثی فریق انسانی وقفہ امن یا جنگ بندی اور اسرائیل و حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، لیکن اب تک کوئی قابل ذکر نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
قاہرہ میں جمع ہونے والی فلسطینی جماعتوں نے کہا ہے کہ موجودہ مرحلے میں سب سے بڑی ترجیح جنگ بندی ہے۔ انھوں نے امن کے لیے پیش کردہ تمام تجاویز و اقدامات کو مکمل طور پر قبول کرنے کا اعلان کیا، جس میں اسرائیلی فوج کا انخلاء اور محصور علاقے پر سے محاصرے کا خاتمہ شامل ہے۔ نیز انسانی اور امدادی معاونت کو فوری طور پر محفوظ اور بغیر کسی رکاوٹ کے داخل کرنے کی ضمانت بھی دی گئی۔
دوسری جانب اسرائیلی ذرائع کے مطابق اسرائیل کی طرف سے قطر کے ثالثوں سے کہا گیا ہے کہ حماس کو اطلاع دی جائے کہ "اب کوئی جزوی معاہدہ نہیں، بلکہ مکمل معاہدہ ہونا چاہیے، جس میں غزہ میں موجود تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی شامل ہو۔"