سعودی عرب میں معذورنوجوانوں کی شمولیت اور معیارِزندگی بہتر بنانےکےلیےجامع پروگرام کاآغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب میں معذوری سے دوچار افراد کی بحالی کے پروگرام کےترجمان خالد خبرانی نے کہا ہے کہ ادارہ معذور نوجوانوں کو بااختیار بنانے، ان کی مؤثر سماجی شمولیت کو یقینی بنانے اور معیارِ زندگی بلند کرنے کے لیے جامع پروگرام اور اقدامات پر عمل کر رہا ہے، جو سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔

رکاوٹوں کا خاتمہ اور آسان رسائی

خالد خبرانی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں بتایا کہ ادارہ ہر اس رکاوٹ کو ختم کرنے پر توجہ دے رہا ہے جو معذور افراد کی سماجی شمولیت میں حائل ہو سکتی ہے، چاہے وہ مادی ہو یا ڈیجیٹل۔ اس مقصد کے لیے سرکاری اور نجی اداروں کے ساتھ شراکت داری کی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت بلدیات و دیہی امور و ہاؤسنگ کے ساتھ مل کر "آسان رہنمائی برائے معیاراتِ رسائی" جاری کیا گیا ہے، جس کا مقصد یکساں معیار اپنانا اور اس کے اطلاق کو سہل بنانا ہے۔

کاروباری قیادت اور معاشی خود مختاری

خبرانی نے بتایا کہ ادارہ مختلف اداروں کے ساتھ شراکت داری کر رہا ہے جن میں سوشل ڈویلپمنٹ بینک بھی شامل ہے، تاکہ معذور افراد کے منصوبوں کو آسان شرائط پر مالی معاونت دی جا سکے۔ اس اقدام سے ان میں کاروباری رجحان اور معاشی خود مختاری بڑھے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم پر خاص توجہ دی جا رہی ہے، چاہے وہ عام سکول ہوں یا جامعات اور پیشہ ورانہ تربیتی مراکز، تاکہ سب کے لیے یکساں اور شمولیاتی تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔

خصوصی پروگرام برائے قیادت اور اختراع

ادارہ "تمکین تھون" پروگرام کے ذریعے معذور افراد کو نئی اختراعات کے مواقع فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ شمولیت اور خودمختاری کو مزید مضبوط بنا سکیں۔ اس کے ساتھ "قمم" پروگرام کے تحت انہیں قیادتی اور فنی صلاحیتیں سکھائی جا رہی ہیں تاکہ وہ روزگار کی منڈی میں مسابقتی حیثیت حاصل کر سکیں۔

روزگار اور حقوق کا تحفظ

ترجمان کے مطابق، ادارہ "جدارات" پلیٹ فارم کے ذریعے معذور افراد کو موزوں ملازمتوں کے لیے براہِ راست درخواست دینے کی سہولت دے رہا ہے۔ مزید برآں، ایسے پروگرام متعارف کرائے جا رہے ہیں جو ان کی ملازمت میں شمولیت کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے زور دیا کہ معذور افراد کے حقوق کا نظام فعال کر دیا گیا ہے جو انہیں تمام قانونی اور سماجی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔

سعودی مردم شماری 2022 کے مطابق، مملکت میں معذور افراد کی تعداد 13 لاکھ 49 ہزار 585 ہے، جو کل آبادی کا 5.9 فیصد ہیں۔ ان میں 57 فیصد مرد اور 43 فیصد خواتین ہیں۔

عام معذوریوں میں سب سے زیادہ تعداد حرکی معذوری کی ہے (3 لاکھ 4 ہزار 787 افراد)، بصری معذوری (1 لاکھ 81 ہزار 728)، سماعتی معذوری (84 ہزار 25)، رابطے میں دشواری (1 لاکھ 96 ہزار 611)، خود دیکھ بھال میں مشکلات (1 لاکھ 57 ہزار 977)، یادداشت کی مشکلات (1 لاکھ 30 ہزار 820) اور دیگر جسمانی معذوریاں (2 لاکھ 93 ہزار 637) ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 2024 ءمیں معذور افراد کی لیبر مارکیٹ میں شمولیت کی شرح 13.4 فیصد رہی۔ اسی سال تک 1164 ماحولیات موزوں اور لائسنس یافتہ قرار پائیں، 2009ء افراد نے تربیتی پروگراموں میں حصہ لیا جبکہ 868 سے زائد افراد کو دستکاری اور ہنر مند کاموں میں تربیت دی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں