سعودی عرب کے چھ علاقوں میں کلاؤڈ سیڈنگ کی کارروائیاں
سعودی عرب کی فضاؤں میں 752 بار کلاؤڈ سیڈنگ کے لیے کی پروازیں کی گئیں
موجودہ وقت میں سعودی عرب میں کلاؤڈ سیڈنگ کا علاقائی پروگرام 6 اہم علاقوں میں اپنی کارروائیاں کر رہا ہے ۔ ریاض، القصیم، حائل اور مکہ مکرمہ، الباحہ اور عسیر میں کلاؤڈ سیڈنگ کا عمل جاری ہے۔ موسمیاتی مطالعات اور بارش کی شرحوں کی تقسیم کے مطابق اس منصوبے کو بتدریج پورے ملک کو شامل کرنے کے لیے وسیع کرنے کا ارادہ ہے۔ کلاؤڈ سیڈنگ کی ٹیکنالوجی کو بعض بادلوں کی خصوصیات کا فائدہ اٹھا کر پہلے سے متعین اور مخصوص علاقوں میں بارش کے عمل کو تیز کر کے بارش کی مقدار اور معیار کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
سعودی عرب میں کلاؤڈ سیڈنگ کی کارروائیاں مخصوص طیاروں کے ذریعے انجام دی جاتی ہیں جو بادلوں کے مخصوص مقامات پر چھوٹے ذرات بکھیرتے ہیں جو ماحول کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتے۔ اس سے خود بادل کے اندر موجود طبیعاتی عمل میں تبدیلی آتی ہے۔ درحقیقت سعودی عرب نے کلاؤڈ سیڈنگ کا علاقائی پروگرام مشرق وسطیٰ سبز سمٹ کے نتائج میں سے ایک کے طور پر شروع کیا ہے۔ اس پروگرام کا اعلان ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے ’’ ویژن 2030 ‘‘ کے مقاصد کے تحت کیا تھا۔ اس پروگرام کا مقصد بارش کی سطح میں اضافہ کرنا، پانی کے نئے ذرائع تلاش کرنا اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پودوں کی کثافت کو بڑھانا ہے۔ اس پروگرام کا عملی آغاز ریاض، حائل اور القصیم کے علاقوں میں کیا گیا تھا۔
گزشتہ سال سعودی عرب نے اندرونی صلاحیتوں کو فروغ دینے، کام کی پائیداری کو برقرار رکھنے، کلاؤڈ سیڈنگ کی کارروائیوں کی کوریج اور کارکردگی کو بڑھانے، طیاروں کو چلانے کے اخراجات کو کم کرنے اور ’’ ویژن 2030 ‘‘ کے ساتھ ہم آہنگ نتائج حاصل کرنے کے لیے کلاؤڈ سیڈنگ کے پروگرام کے لیے متعدد آپریشنل منصوبے بھی شروع کیے تھے۔
1986 میں آغاز
اس حوالے سے کلاؤڈ سیڈنگ کے پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انجینئر ایمن البار نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو ایک بیان میں سعودی عرب میں کلاؤڈ سیڈنگ کے پہلے تجربے کو یاد کیا جو 1986 میں شروع ہواتھا۔ اس کے بعد 2004 میں عسیر کے علاقے میں اور 2006 میں وسطی علاقے میں خصوصی تجربات کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کا حقیقی آغاز 2022 میں اس وقت ہوا جب اسے سعودی عرب میں باضابطہ طور پر شروع کیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد بارش کو بڑھانا اور آبی وسائل کو بہتر بنانا تھا۔
752 کلاؤڈ سیڈنگ پروازیں
اسی تناظر میں سعودی عہدیدار نے وضاحت کی کہ پچھلے عرصے میں اس پروگرام کے ذریعے کیے گئے آپریشنز 752 پروازوں تک پہنچ گئے جن میں کل 1,879 پرواز کے گھنٹے شامل تھے۔ اس کے علاوہ 51 تحقیقی پروازیں بھی تھیں جن میں تقریباً 169 گھنٹے کی پرواز ہوئی۔
آخری کلاؤڈ سیڈنگ کارروائی
انجینئر البار نے بتایا کہ آخری کلاؤڈ سیڈنگ کی کارروائی جمعہ 8 اگست 2025 کو رماح کے گورنریٹ میں انجام دی گئی تھی جہاں آپریشنز ٹیم نے موسمی صورتحال کی پیش رفت پر نظر رکھی اور ریڈار کے ذریعے تکنیکی تجزیہ کے نتائج نے کلاؤڈ سیڈنگ کی کارروائی کو موزوں قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان پروازوں میں تقریباً ایک گھنٹہ اور 20 منٹ لگے تھے۔
خشک سالی میں کمی
سعودی عرب خشک سالی کے مظاہر کو کم کرنے اور قدرتی اور ماحولیاتی وسائل کو اپنانے اور ماحولیاتی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے پانی کے نئے ذرائع کی تلاش میں کلاؤڈ سیڈنگ کی کارروائیوں کو بڑھانے کی اپنی خواہش میں اضافہ کر رہا ہے۔
گرمیوں میں کلاؤڈ سیڈنگ
ایسے وقت میں جب ملک گرمیوں کے گرم موسم سے گزر رہا ہے۔ اس موسم میں کلاؤڈ سیڈنگ کی تکنیک کا استعمال سال کے دیگر موسموں سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ بادلوں کی نوعیت اور مروجہ موسمی حالات مختلف ہوتے ہیں۔ گرم اور خشک علاقوں میں ٹھنڈے بادلوں کی تشکیل کا امکان کم ہوتا ہے جن میں برف کے کرسٹل کی مقدار زیادہ ہو۔
-
الاسکا میں امریکہ روس سربراہی اجلاس کا خیر مقدم کرتے ہیں: سعودی عرب
سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مملکت سعودی عرب تمام ایسی سفارتی ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب: ایک ہفتے میں مختلف قوانین کی خلاف ورزی پر 21 ہزار افراد گرفتار
اقامتی قوانین 13434 ، سرحدی سکیورٹی قوانین 4697 اور ورک قوانین کی خلاف ورزی کرنے ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب سمیت عالمی برادری کا سیلابی تباہ کاریوں پر پاکستان سے اظہار ہمدردی
سعودی عرب نے حالیہ سیلاب اور موسلادھار بارشوں کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر حکومت ...
بين الاقوامى