رام اللہ میں اسرائیلی فوج کا بڑا آپریشن، صرافہ دکانوں پر چھاپے، 58 فلسطینی زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح رام اللہ کے قلب میں تین گھنٹے تک جاری رہنے والا ایک بڑا اور "غیر معمولی" آپریشن کیا جس کے دوران شہر کا محاصرہ کیا گیا۔ کارروائی میں درجنوں فوجی گاڑیاں شریک تھیں جبکہ عمارتوں کی چھتوں پر سنائپرز بھی تعینات کیے گئے۔

صرافہ دکانوں اور دفاتر پر چھاپے

فوج نے شہر میں قائم العجولی کمپنی سمیت کئی صرافہ دفاتر اور بنکوں پر دھاوا بولا، نقدی اور قیمتی اشیاء ضبط کر لیں اور متعدد ملازمین کو گرفتار کر لیا۔ اسرائیلی فوج نے کئی دیگر بنکوں کو بھی محاصرہ میں لیا۔

جھڑپیں

کارروائی کے دوران شدید جھڑپیں ہوئیں۔ فلسطینی نوجوانوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان پتھراو اور گولیوں کا تبادلہ بھی ہوا۔فلسطینی ذرائع کے مطابق فوج نے براہِ راست فائرنگ کی، ربڑ کی گولیاں برسائیں اور آنسو گیس کے شیل پھینکے۔ فلسطینی ہلال احمر نے بتایا کہ جھڑپوں میں 58 شہری زخمی ہوئے جن میں ایک 12 سالہ بچہ بھی شامل ہے۔

امدادی ٹیموں کو روکا گیا

ہلال احمر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایمبولینسوں کو زخمیوں تک پہنچنے سے روک دیا۔ مقامی ذرائع نے تصدیق کی کہ تین شہریوں کو براہِ راست گولی لگی، جن میں سے بعض وسطی بازار کے قریب زخمی ہوئے۔

صحافی بھی نشانہ

کارروائی کے دوران اسرائیلی فوج نے صحافیوں کی گاڑی پر ربڑ کی گولیاں چلائیں جس سے گاڑی کو نقصان پہنچا۔ فوج نے اس موقع پر ان فلسطینی شہریوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جو شہداء کے جسد خاکی واپس لینے کے قومی دن کے پروگرام میں شریک تھے۔

نامعلوم مقاصد کی کارروائی

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ یہ کارروائی فوج نے "فیصلہ کن اور غیر معمولی" قرار دے کر شروع کی مگر تاحال اس کا مقصد یا ہدف ظاہر نہیں کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں