اقوامِ متحدہ کے جوہری نگراں ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ ادارے کے معائنہ کاروں کی ایک ٹیم دوبارہ "ایران کے دورے پر ہے" جس کا اس سال ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد یہ پہلا دورہ ہے۔
ایران نے جون میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کر دیا تھا اور مؤقف اختیار کیا کہ آئی اے ای اے اس کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کی مذمت کرنے میں ناکام رہی۔
"اب آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی پہلی ٹیم ایران واپس آ گئی ہے اور ہم کام دوبارہ شروع کرنے والے ہیں،" ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے فاکس نیوز کے پروگرام "دی سٹوری" میں منگل کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں بتایا۔
گروسی نے کہا، "جب ایران کی بات آتی ہے تو آپ جانتے ہیں کہ وہاں کئی سہولیات موجود ہیں۔ بعض پر حملہ کیا گیا، بعض پر نہیں اس لیے ہم اس بات پر تبادلۂ خیال کر رہے ہیں کہ وہاں اپنے کام کے دوبارہ آغاز میں سہولت فراہم کرنے کے لیے کس قسم کے عملی طریقے نافذ کیے جا سکتے ہیں۔"
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران نے منگل کو جنیوا میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ بات چیت کی۔ تہران اس وقت پابندیوں کا دوبارہ نفاذ روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی جو مذاکرات میں شریک تھے، نے کہا کہ یہ یورپی مثلث کے لیے "صحیح انتخاب کرنے اور سفارت کاری کو وقت اور جگہ دینے کا بہترین وقت ہے"۔
برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اگست کے آخر تک کوئی معاہدہ طے نہ ہونے کی صورت میں "پابندیوں کے دوبارہ نفاذ" کی دھمکی دی ہے۔
منگل کی ملاقات جون میں ہونے والی جنگ کے خاتمے کے بعد سے یورپی سفارت کاروں سے مذاکرات کا دوسرا دور تھی۔
اس تنازع سے امریکہ-ایران جوہری مذاکرات پٹڑی سے اتر گئے تھے۔
اس سے آئی اے ای اے سے ایران کے تعلقات بھی سردمہری کا شکار ہو گئے اور تہران نے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی کو اپنی جوہری تنصیبات پر حملوں کا ذمہ دار قرار دیا۔