اسرائیل اور لبنان کے درمیان نومبر 2024 کو ہونے والی جنگ بندی کے اگلے مرحلے کے طور پر لبنان کو ایک منصوبہ دینے والے امریکی خصوصی نمائندے نے منگل کے روز غیر مہذب الفاظ استعمال کرتے ہوئے لبنانی صحافیوں کو 'جانور پرست' قرار دے دیا جب وہ لبنان کے صحافیوں کو مہذب ہونے کی ہدایت کر رہے تھے۔
ان کے اس طرح ’مہذب کام‘ کرنے کا کہنے پر غم و غصہ پیدا ہو گیا۔ ٹام بیرک کہہ رہے تھے کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارے لیے تفریحی سرگرمی ہے۔ اس کے بعد لبنانی صحافیوں میں غصہ بھڑک اٹھا۔ اور پریس کانفرنس کا ماحول کافی مکدر ہو گیا۔
امریکی نمائندہ برائے شام و لبنان ٹام بیرک نے کہا آپ کو لگتا ہے لبنان میں امریکی سفیر مورگن اور میں یہاں اس پاگل پن کو برداشت کرنے کے لیے یا کسی معاشی فائدے کے لیے آئے ہیں۔
ٹام بیرک نے لبنانی صدارتی محل میں منگل کے روز پریس کانفرنس کے دوران لبنانی صحافیوں کو کھلے الفاظ میں جانور پرست قرار دے کر تنقید کی زد میں آ گئے۔ ٹام بیرک اس خطے کے لیے واشنگٹن کے خصوصی ایلچی اور ترکی میں سفیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ صدر جوزف عون سے ملاقات کے بعد بیرک پریس کانفرنس کر رہے تھے۔
جس دوران انہوں نے کہا، براہ کرم، ایک لمحے کے لیے خاموش رہو۔ اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہو کہ کیا ہو رہا ہے؟ تو ضروری یے کہ مہذب انداز اپناؤ اور رواداری سے کام لو، کیونکہ خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا یہی مسئلہ ہے۔ جو آپ کر رہے ہو۔
اس طرح لبنان کے اہم ترین صحافیوں کو مہذب ہو جانے کا مشورہ دیتے ہوئے امریکی نمائندے نے اچھی خاصی کر دی۔ اگرچہ رپورٹرز کا یہ معاملہ بیروت ہو یا واشنگٹن ہر جگہ اسی طرح ہوتا ہے کہ ان کے سوالات کے لیے اٹھنے والی آوازیں ایک دوسرے کی آواز سے ٹکرا جاتی ہیں۔
امریکی نمائندے کے ساتھ لبنان کے لیے امریکی سفیر بھی موجود تھے جنہوں نے پچھلی بار اس وقت لبنانی حکام پر غصے کا اظہار کیا تھا جب انہوں نے اسرائیل کا اس لیے شکریہ ادا کیا کہ اس نے حزب اللہ کو شکست دی۔
بیرک نے صحافیوں پر اپنی برہمی جاری رکھتے ہوئے کہا۔ کیا آپ سمجھتے ہو کہ اس میں میرے اور مورگن کے لیے کوئی مالی منفعت ہے۔اس لیے ہم یہاں آئے ہیں۔ یہ تو پاگل پن ہے جو یہاں ہو رہا ہے۔
بعد ازاں لبنان کے صدارتی محل نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے امریکی مہمان کا نام لیے بغیر ان کی طرف سے استعمال کی گئی غیر مناسب زبان پر معذرت کی ہے۔ نیز لبنانی صحافیوں کی تعریف کی ہے۔