سعودی عرب میں 'پیشہ ورانہ اعتماد' کے 3 مقاصد حاصل ... پروگرام سے 4.6 لاکھ افراد مستفید
یہ غیر ملکی افرادی قوت کی صلاحیت بڑھاتا ہے اور سعودی لیبر مارکیٹ کو مضبوط بناتا ہے
سعودی وزارتِ افرادی قوت و سماجی ترقی نے بتایا ہے کہ "پیشہ ورانہ اعتماد" (الاعتماد المھنی) پروگرام کے ذریعے لیبر مارکیٹ کے نتائج کا معیار بہتر بنانے اور غیر ملکی افرادی قوت کی مہارتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ وزارت کے ترجمان محمد الرزقی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ اس پروگرام کا مقصد مقامی منڈی میں درکار مہارتوں کی کمی کو پورا کرنا، غیر ملکی کارکنوں کی قابلیت بہتر بنانا اور ہنرمند و پیشہ ور افراد کی تیاری کو معیاری بنانا ہے۔
انھوں نے کہا کہ رواں سال کے وسط تک اس پروگرام کے تحت 4 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد مستفید ہوئے جس سے مارکیٹ میں اعتماد اور معیار میں اضافہ ہوا۔ پروگرام کا بنیادی ہدف یہ ہے کہ غیر ملکی کارکنان اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتیں ان معیاروں کے مطابق حاصل کریں جو سعودی پیشہ ورانہ درجہ بندی سے ہم آہنگ ہوں تاکہ زیادہ مؤثر اور معیاری ماحولِ کار فراہم کیا جا سکے۔
وزارت نے واضح کیا کہ اس پروگرام کے ذریعے آجروں کو اپنے ملازمین کی مہارت جانچنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے سعودی عرب کے اندر اور باہر 127 سے زائد مراکز قائم کیے گئے ہیں، اور اب تک یہ سہولت ان پانچ ممالک میں بھی فراہم کی گئی ہے جہاں سے سب سے زیادہ افرادی قوت سعودی عرب آتی ہے۔ یہ ممالک پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا اور مصر ہیں۔
ترجمان کے مطابق پروگرام کا دائرہ 160 ممالک تک بڑھا دیا گیا ہے اور وزارتِ خارجہ کے ساتھ تکنیکی ربط کے نتیجے میں اس کے براہِ راست فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ یہ پروگرام ایک ہزار سے زیادہ پیشوں پر لاگو ہوتا ہے جس کے لیے سعودی پیشہ ورانہ درجہ بندی کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالا گیا ہے۔
الرزقی نے مزید بتایا کہ مختلف ممالک کے تعلیمی نظام کے فرق کی وجہ سے ایک یکساں فریم ورک بنایا گیا تاکہ سعودی مارکیٹ میں داخل ہونے والی افرادی قوت کی اہلیت کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے جدید ڈیجیٹل سسٹم متعارف کرائے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی تیار کیا گیا ہے جو بڑی تعداد میں درخواستوں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور تمام مراحل کو خود کار بنا دیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ 15 دن میں نتائج سامنے آ سکیں۔
پروگرام کے تحت ہدف یہ ہے کہ سعودی عرب میں موجود غیر ملکی افرادی قوت کا 100 فی صد معائنہ مکمل کیا جائے۔ اب ورک ویزا صرف اسی وقت جاری ہوگا جب امیدوار کو پیشہ ورانہ اعتماد کی سند مل جائے، خواہ تعلیمی اسناد کی تصدیق کے بعد یا پھر عملی و نظری امتحانات میں کامیابی کے ذریعے۔ اس وقت مملکت کے اندر اور باہر 200 سے زیادہ مراکز یہ سہولت فراہم کر رہے ہیں۔
انسانی وسائل کے ماہر علی العید نے کہا کہ "پیشہ ورانہ اعتماد" پروگرام سعودی لیبر مارکیٹ میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ یہ محض امتحان نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک اقدام ہے جو پیشہ ورانہ نظام کو مضبوط کرتا ہے، غیر اہل افرادی قوت کو محدود کرتا ہے اور اہل افراد کو سامنے لاتا ہے۔ اس طرح یہ اقدام سعودی وژن 2030 کے مقاصد خصوصاً انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری اور قومی معیشت کی مسابقتی صلاحیت کو تقویت دیتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پروگرام جرمنی، سنگاپور اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے کامیاب ماڈلوں سے استفادہ کرتا ہے جہاں پیشہ ورانہ تربیت اور امتحانات لازمی سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق مہارتوں میں سرمایہ کاری اور پیشہ ورانہ اعتماد کسی بھی مضبوط اور پائے دار لیبر مارکیٹ کے قیام کی بنیادی شرط ہے۔
-
سعودی و اماراتی انسداد منشیات ایجنسیوں کی مشترکہ کارروائی:ایمفیٹامین سمگلنگ کی کوشش ناکام
ایک ہفتے کے دوران مختلف بندرگاہوں پر ضبطی کی 1,371 کارروائیاں
مشرق وسطی -
سعودی عرب کا افغانستان میں زلزلے کے متاثرین سے اظہار تعزیت
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے افغانستان کے مشرقی علاقے میں آنے والے ہولناک زلزلے کے ...
مشرق وسطی -
سعودی ساحل کے قریب حوثیوں کا میزائل حملہ: کیمیکل ٹینکر محفوظ رہا
سعودی ساحل کے قریب یمن کی حوثی ملیشیا کے حملے کی اطلاعات کے درمیان لائبیریا کا ...
مشرق وسطی