غزہ کی پٹی میں بھوک سے اموات کی تعداد 348 ہو گئی ، 127 بچے شامل ہیں : وزارت صحت
غزہ میں قحط کے با ضابطہ اعلان کے بعد سے 70 لوگ فوت ہو چکے ہیں جن میں 12 بچے شامل ہیں
غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارتِ صحت نے آج پیر کے روز اعلان کیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران قحط اور غذائی قلت کے باعث مزید 9 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، جن میں 3 بچے بھی شامل ہیں۔
وزارت نے اپنے بیان مزید بتایا کہ "یوں قحط کے شکار جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 348 ہوگئی ہے، جن میں 127 بچے ہیں .... 22 اگست کو (IPC) کی جانب سے غزہ میں قحط کی با ضابطہ درجہ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک 70 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں 12 بچے شامل ہیں"۔
وزارتِ صحت نے اس بات پر زور دیا کہ محاصرے اور خوراک و ادویات کی شدید قلت کے باعث غزہ کی انسانی بحران کی صورت حال بدستور بگڑ رہی ہے۔ وزارت نے ایک بار پھر عالمی برادری اور امدادی اداروں سے فوری اور ہنگامی مداخلت کی اپیل کی۔
گزشتہ بدھ کو امریکا کے سوا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام اراکین نے کہا تھا کہ غزہ میں قحط "انسانی ساختہ بحران" ہے۔ ان ممالک نے خبردار کیا تھا کہ جنگ میں بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ممنوع ہے۔
کونسل کے 14 اراکان نے اپنے مشترکہ بیان میں غزہ میں فوری، پائے دار اور غیر مشروط جنگ بندی، حماس اور دیگر گروپوں کی حراست میں موجود تمام قیدیوں کی رہائی، خطے میں بڑے پیمانے پر امداد کی ترسیل اور اسرائیل کی جانب سے امداد کی فراہمی پر عائد تمام پابندیوں کو فوری اور غیر مشروط طور ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
اسی دوران اسرائیل نے بدھ کو اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں تیار کیے گئے "عالمی غذائی تحفظ کے مرحلہ وار درجہ بندی نظام" (IPC) کی رپورٹ واپس لینے کا مطالبہ کیا، جس کی بنیاد پر غزہ میں قحط کا اعلان کیا گیا تھا۔
اقوامِ متحدہ نے گزشتہ جمعے کو با ضابطہ طور پر غزہ میں قحط کا اعلان کیا تھا اور بتایا تھا کہ پانچ لاکھ افراد ایسی بھوک کا سامنا کر رہے ہیں جو تباہ کن سطح تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اعلان "عالمی غذائی تحفظ کے مرحلہ وار درجہ بندی نظام" کی رپورٹ پر مبنی تھا، جو اقوامِ متحدہ کا حمایت یافتہ ایک طریقہ کار ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ غزہ گورنری میں جس میں غزہ شہر اور اس کے اطراف شامل ہیں اور جو غزہ کی پٹی کے 20 فی صد علاقے پر مشتمل ہے، قحط کی صورت حال موجود ہے اور امکان ہے کہ ستمبر کے آخر تک قحط وسطی علاقے دیر البلح اور جنوبی علاقے خان یونس تک پھیل جائے گا۔
اقوامِ متحدہ نے قحط کی ذمے داری اسرائیل پر عائد کی اور کہا کہ یہ سب "امداد کی ترسیل میں اسرائیلی جانب سے منظم رکاوٹ ڈالنے" کا نتیجہ ہے۔
مارچ کے آغاز میں اسرائیل نے غزہ پر مکمل محاصرہ نافذ کر دیا تھا اور کسی قسم کی امداد کا داخلہ روک دیا تھا، تاہم مئی کے آخر میں کچھ نرمی کی گئی۔
اندرونی اور بیرونی دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے اسرائیل نے بدھ کو غزہ شہر کے اطراف اپنی کارروائیاں تیز کر دیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ غزہ جو پٹی کا سب سے بڑا شہر ہے، اس کو خالی کرانا "ناگزیر" ہے۔
اقوامِ متحدہ اور غیر سرکاری تنظیمیں مسلسل غزہ کی تباہ کن انسانی صورت حال کی مذمت کر رہی ہیں۔ یہاں اسرائیل کی جانب سے تقریباً دو برس سے محاصرہ اور بم باری جاری ہے۔ غزہ کی پٹی میں 20 لاکھ سے زائد فلسطینی بستے ہیں۔
-
بعد از جنگ غزہ پر امریکہ کا کنٹرول ہوگا، تمام فلسطینیوں کو نکال باہر کیا جائےگا: رپورٹ
امریکہ کے معروف اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی خصوصی رپورٹ میں کہا ہے کہ غزہ میں جنگ ...
بين الاقوامى -
غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے شدید فضائی حملے
چوبیس گھنٹوں کے اندر اسرائیلی حملوں میں 90 فلسطینی جاں بحق : طبی ذرائع
بين الاقوامى -
غزہ پر قبضے کی کارروائی دو ہفتوں کے اندر شروع ہو گی : اسرائیلی میڈیا
اسرائیلی کابینہ کی سلامتی کمیٹی کو فوج کی جانب سے غزہ کے گھیراؤ اور قبضے کی تفصیلی ...
بين الاقوامى