غزہ میں اسرائیلی جارحیت پر دنیا کی خاموشی: اردنی وزیرِ خارجہ کی طرف سے مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

اردن کے وزیرِ خارجہ ایمن الصفدی نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت پر دنیا کی خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسی پیمانے پر قتل و غارت کسی اور جگہ ہو رہا ہوتا تو "پوری دنیا اٹھ کھڑی ہوتی اور ضرور کچھ کہتی۔"

الصفدی نے کہا، "ہوا یہ ہے کہ ہمارے بین الاقوامی نظام نے معصوم لوگوں کے قتل، بے گناہوں کے بھوکا مرنے کو اس حد تک معمول کی بات سمجھ لیا ہے کہ 24 گھنٹوں میں تقریباً 150 لوگوں کے قتل پر کہیں شور نہیں مچتا۔"

منگل کو سلووینیا میں بلیڈ سٹریٹجک فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا: "کیا اس کمرے میں موجود کسی فرد کو معلوم ہے کہ کل غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں کتنے فلسطینی ہلاک ہوئے؟"

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 98 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا جن میں امداد کے متلاشی افراد اور بھوکے مرنے والے نو افراد شامل ہیں۔

الصفدی نے فلسطینی ہلاکتوں پر دنیا کی خاموشی پر تنقید کی جسے 500 رکنی انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف جینوسائیڈ سکالرز نے نسل کشی قرار دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ایک معتبر عالمی نگران نے کہا ہے کہ علاقے کے بعض حصے اب انسانی ساختہ قحط کا شکار ہیں جبکہ اسرائیل اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں