لبنان کے صدر جنرل جوزف عون نے امریکہ سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنوب میں قبضے والے علاقوں سے نکل جائے تاکہ لبنانی فوج کو بین الاقوامی سرحد تک اپنی تعیناتی مکمل کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔
لبنانی صدر نے بعبدا محل میں امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل براڈ کوپر اور بیروت میں امریکی سفیر محترمہ لیزا جانسن کا استقبال کیا۔ ملاقات کے دوران انہوں نے دشمنی کے خاتمے کی نگرانی کی کمیٹی کے کام کو فعال کرنے کی درخواست کی۔
اس کمیٹی کا مقصد نومبر میں طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے جس میں لبنان پر اسرائیلی حملوں کو روکنا، قبضے والے پہاڑوں اور علاقوں سے اسرائیلی فوج کا انخلا اور قیدیوں کو واپس کرنا شامل ہے۔ یہ اقدامات قرارداد 1701 کے تمام پہلوؤں پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے خاص طور پر چونکہ یہ لبنانی حکومت کے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہیں کہ ہتھیار صرف لبنانی مسلح افواج کے پاس رہیں گے۔ گزشتہ روز کابینہ نے اس مقصد کے لیے فوج کی قیادت کی جانب سے تیار کردہ فوجی منصوبے کا خیر مقدم کیا تھا۔
اس ملاقات میں جس میں "MECHANISM" کمیٹی کے سربراہ جنرل مائیکل لینی بھی موجود تھے۔ جوزف عون نے نشاندہی کی کہ جنوب میں اسرائیلی حملوں کا تسلسل لبنانی فوج کی سرحد تک تعیناتی کو روک سکتا ہے۔ فوج نے لیطانی کے جنوب میں 85 فیصد سے زیادہ علاقے میں اپنی پوزیشنیں سنبھال لی ہیں اور وہ مشکل جغرافیائی اور آپریشنل حالات میں مسلح مظاہروں کو روکنے اور ہتھیاروں اور گولہ بارود کو ضبط کرنے کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
اس دوران اب تک 12 افسران اور فوجی اہلکار گولہ بارود کی منتقلی یا بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔ فلسطینی صدر محمود عباس کے لبنان کے دورے کے دوران طے پانے والے معاہدے کے تحت فوج نے کچھ فلسطینی کیمپوں سے فلسطینی ہتھیار بھی لینا شروع کر دیے ہیں۔
صدر جوزف عون نے ایڈمرل کوپر پر زور دیا کہ امریکہ لبنانی فوج کی حمایت جاری رکھے اور اسے ضروری سازوسامان اور گاڑیاں فراہم کرے تاکہ وہ لبنان بھر میں سونپے گئے فرائض کو انجام دے سکے۔ ان فرائض میں سلامتی برقرار رکھنا، سمگلنگ اور دہشت گردانہ کارروائیوں کو روکنا، لبنانی- شامی سرحد کو کنٹرول کرنا اور دیگر کام شامل ہیں جو ایسے فوجی اہلکار انجام دیتے ہیں جو مشکل معاشی حالات میں کام کر رہے ہیں۔ صدر جوزف عون نے فوج اور جنوب میں کام کرنے والی بین الاقوامی افواج ” یونیفل “ کے درمیان جاری ہم آہنگی کا ذکر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ امریکی حمایت ملک میں استحکام کو بڑھاتی ہے۔
گزشتہ مہینوں کے دوران ملک نے مختلف شعبوں میں مثبت ترقی کی ہے جس کے نتیجے میں حکومت کی جانب سے شروع کی گئی اصلاحات کے مطابق اقتصادی ترقی ہوئی ہے۔ اسی کے ساتھ لبنان کی تعمیر نو کی اہمیت بھی ابھر کر سامنے آئی ہے۔ دوست اور برادر ممالک دشمنی کے خاتمے اور ملک میں استحکام کی واپسی کے بعد اس اقدام میں حقیقی طور پر حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔
صدر جوزف عون نے ایڈمرل کوپر کے لیے ان کے نئے مشن میں کامیابی کی دعا کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنان کی صورتحال کو ضروری اہمیت دیں کیونکہ اس کا استحکام خطے کے ممالک میں استحکام کے لیے ایک بنیادی عنصر ہے۔ ملاقات کے آغاز میں ایڈمرل کوپر نے لبنان میں اپنی موجودگی پر خوشی کا اظہار کیا اور جنوب اور پورے لبنانی علاقے میں تعینات لبنانی فوج کے بہترین کام کی تعریف کی۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکہ مختلف شعبوں میں لبنان کو ضروری مدد فراہم کرتا رہے گا خاص طور پر فوجی سازوسامان اور تربیت کے ذریعے مدد کی جاتی رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ میکانزم کمیٹی کل ایک اجلاس منعقد کرے گی تاکہ جنوب میں موجودہ صورتحال پر بات چیت کی جا سکے اور گزشتہ نومبر کے معاہدے کے مندرجات پر عملدرآمد مکمل کر کے وہاں استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے کام کیا جا سکے۔
-
لبنانی حکومت نے ہتھیاروں کو فوج تک محدود کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی
حزب اللہ اور امل تحریک کے وزراء نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے پر بحث کے ...
مشرق وسطی -
شاہ سلمان ریلیف کی جانب سے لبنان اور سوڈان میں غذائی امداد کی تقسیم
سعودی امدادی ایجنسی شاہ سلمان ریلیف نے لبنان اور سوڈان میں ضرورت مند لوگوں کو ...
بين الاقوامى -
لبنان حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے پر تبادلۂ خیال کرے گا
گروپ کی جانب سے منصوبے کی مخالفت
مشرق وسطی