اسرائیلی ریاست کے وزیر خارجہ گیڈون سائر نے یورپی ملک سپین پر بھی یہود دشمنی اور اسرائیل مخالفت کا الزام عائد کر دیا ہے۔ پیر کے روز جب سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کے لیے 9 اقدامات کرنے کا اعلان کیا۔
یاد رہے اس سے پہلے ہی اسرائیل سپین اور بعض دوسرے یورپی ملکوں کے بارے میں بہت سخت رائے اختیار کر چکا ہے کیونکہ ان ممالک نے پچھلے سال ماہ مئی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا تھا۔
سپینش وزیر اعظم کے 9 اقدامات کے اعلان پر اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سائر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا کہ ان کی بدعنوان انتظامیہ سنجیدہ ایشوز سے توجہ ہٹانے کے لیے اور اسرائیل کے خلاف ایک متنازعہ اور ایک صاف نظر آنے ولی یہود مخالف مہم شروع کر رہی ہے۔
انہوں نے اس موقع پر یہ بھی اپنے بیان میں لکھا کہ اسرائیل نے سپین کے نائب وزیر اعظم اور وزیر محنت یولینڈا ڈیاز کے اسرائیل میں داخلہ پر پابندی لگا دی ہے ۔
گیڈون سائر نے ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر سیجارٹو کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا سپین کے خلاف آج ہم نے سرخ لکیر کھینچ دی ہے۔
سپین نے کہا ہے کہ ہم ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ یہ الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔
وزارت خارجہ نے کہا دونوں وزراء کو ملک میں آنے سے روکنا قابل مذمت ہے۔ سپین کو اس طرح کے اقدامات کی بنیاد پر امن اور بین الاقوامی قانون کے دفاع سے نہیں روکا جا سکتا۔
دوسری جانب سائر نے سپین اور فرانس کی مذمت کی ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے لیے اتنے پرجوش ہیں تو وہ پانی سرزمین پر فلسطینی ریاست قائم کر لیں۔
یاد رہے سپین کے ساتھ ساتھ فرانس نے بھی اعلان کیا تھا کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔
سانچیز نے جن اقدامات کا اعلان کیا ہے ان میں اسرائیل کو ہتھیار دینے اور ہتھیاروں کے جہازوں کی سپین کی بندرگاہوں پر آنے جانے پر بھی پابندی شامل ہے۔
-
غزہ جانے والی امدادی کشتیوں کی تیونس آمد: استقبال کے لیے بڑی تعداد موجود
یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن استقبال کرنے والوں میں شامل
بين الاقوامى -
اسرائیلی وزیر دفاع کی غزہ کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی دھمکی
حماس کے دہشت گردوں کو آخری مہلت، ہتھیار ڈال دیں ورنہ پورے غزہ کو تباہ کردیا جائے ...
مشرق وسطی -
اقوامِ متحدہ کے سربراہ برائے حقوق کی غزہ پر اسرائیلی 'نسل کشی کے بیانات' کی مذمت
غزہ کے ناقابلِ بیان مصائب پر اظہارِ افسوس
مشرق وسطی