"كارلو".... بیت المقدس کے حملے میں استعمال ہونے والا ہتھیار

کارلو ایک دیسی ساختہ کم لاگت ہتھیار ہے جو مغربی کنارے کی چھوٹی ورکشاپوں میں تیار کیا جاتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں آج پیر کے روز ایک مسلح حملے میں سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے جب حملہ آوروں نے بس اسٹاپ پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ العربیہ کے مطابق حملہ آوروں نے مقامی طور پر تیار کی گئی "کارلو" بندوق استعمال کی۔
کارلو جسے "کارل گوستاف" بھی کہا جاتا ہے، ایک سستا اور غیر معیاری ہتھیار ہے جو مغربی کنارے کی ورکشاپوں میں تیار ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ ہتھیار کم فاصلے تک مؤثر ہے اور اس کی گولیاں زیادہ درست نہیں ہوتیں، پھر بھی یہ اپنی کم لاگت اور آسان تیاری کی وجہ سے برسوں سے کئی حملوں میں استعمال ہو رہا ہے۔

"ٹائمز آف اسرائیل" اخبار کے مطابق اس کی تیاری روکنا تقریباً نا ممکن ہے۔

یہ بندوق پہلی بار 2000 میں سامنے آئی، جب اس کا ڈیزائن انتہائی سادہ مگر کارگر تھا یعنی ایک دھاتی نلی پر مبنی ڈھانچہ، سادہ سا قبضہ اور چشمے سے چلنے والا فائرنگ میکانزم.

ماہرین کے مطابق جدید ہتھیاروں کی کمی اور ان کی بلند قیمتوں نے کارلو کی مانگ بڑھائی۔ مثال کے طور پر کلاشنکوف کی قیمت 10 ہزار ڈالر تک پہنچ جاتی ہے، جبکہ کارلو کی ابتدائی کاپی صرف 500 ڈالر میں دستیاب ہے۔

اس کی تیاری بھی آسان ہے، صرف ڈرل مشین، ویلڈنگ کا سامان اور انٹرنیٹ پر موجود خاکے کافی ہیں۔ یہی سادہ پن اسرائیل کے لیے اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں سب سے بڑا چیلنج ہے۔

اس ہتھیار کا نام دراصل سویڈن کی مشہور کارل گوستاف بندوق سے ماخوذ ہے، جو 1945 میں متعارف ہوئی تھی۔ تاہم دونوں میں بظاہر شکل کی مماثلت کے سوا کوئی تعلق نہیں۔ آج کل اس کے ڈیزائن انٹرنیٹ پر کھلے عام دستیاب ہیں اور اکثر غیر حکومتی گروہوں تک پہنچ جاتے ہیں۔

کارلو سادہ میکانزم سے چلتی ہے یعنی گولی چلنے پر خالی خول نکل جاتا ہے اور نئی گولی خود بخود لوڈ ہو جاتی ہے، جب تک ٹریگر دبا رہے۔ اس کی کئی اقسام اور مختلف گولیاں رائج ہیں، جن میں سب سے عام 9 ملی میٹر کارتوس ہیں۔ حالیہ برسوں میں اس کی بہتر کاپیاں بھی سامنے آئی ہیں، جن کی قیمت 2500 سے 3800 ڈالر تک جا پہنچی ہے، جو اصل ہتھیاروں سے سستی مگر عام کارلو سے مہنگی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں